SHAWORDS
Charkh Chinioti

Charkh Chinioti

Charkh Chinioti

Charkh Chinioti

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

ہر بات کاٹتے ہیں وہ تلوار کی طرح احباب کا سلوک ہے اغیار کی طرح دنیا میں جن کو زہد پہ اپنے غرور تھا محشر میں وہ کھڑے ہیں خطا کار کی طرح نظروں کا رنگ اور اشاروں کی بات اور انکار کر رہے ہیں وہ اقرار کی طرح طول مرض نے ان کو کسل مند کر دیا تیمار دار بیٹھے ہیں بیمار کی طرح حاصل کنار دوست ہو ایسا کہاں نصیب ساحل سے دور دور ہیں منجدھار کی طرح ہر زاویے سے ان کی جوانی کے واقعات ترتیب دے رہا ہوں میں فنکار کی طرح تیرے حضور آ کے زمانے کے شاہ بھی منہ دیکھتے ہیں بندۂ نادار کی طرح تخریب کاریوں سے ہمیں کچھ غرض نہیں جینا ہے چرخؔ ہم کو تو معمار کی طرح

har baat kaaTte hain vo talvaar ki tarah

غزل · Ghazal

فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقی پھر اپنے رنگ پہ دور شباب ہے ساقی یہ تلخ یادیں کم از کم بھلا تو دیتی ہے شراب کچھ بھی ہو آخر شراب ہے ساقی جو اپنی ہستی کی مستی مٹا کے آتا ہے ترے حضور وہی باریاب ہے ساقی غم فراق غم زندگی غم دنیا شراب سارے غموں کا جواب ہے ساقی تری نگاہوں سے میخانے جام بھرتے ہیں تری نگاہوں کا کوئی جواب ہے ساقی بقول چرخؔ یہاں مستیاں ابھرتی ہیں یہ مے کدہ تو جہان شباب ہے ساقی

fazaa mein kaif-fashaan phir sahaab hai saaqi

غزل · Ghazal

بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئی ہم سے بارات فریبوں کی سجائی نہ گئی آج بھی دار کے تختہ سے صدا آتی ہے حق کی آواز ستم گر سے دبائی نہ گئی دوست کرتے ہیں حسد اس لیے تیری تصویر ماسوا دل کے کہیں اور سجائی نہ گئی غم کی تصویر بنانے کو میں جب بھی بیٹھا ان کی مسکان ابھر آئی بنائی نہ گئی نئی تہذیب کے خاکوں کو سنوارا ہم نے ہم سے اخلاق کی تصویر بنائی نہ گئی جانے کیا سوجھی مری قبر پر آ کر ان سے گل چڑھائے نہ گئے شمع جلائی نہ گئی میں تو بات آئی گئی کر کے چلا آیا تھا ہو گئی بات پرائی وہ دبائی نہ گئی اس نے ہنگاموں سے بہلائی ہے اپنی دنیا وقت سے امن کی شہنائی بجائی نہ گئی چرخؔ دیکھے جو جوانی کے ابھرتے جلوے زندگی اپنی گناہوں سے بچائی نہ گئی

baat kahne ke liye baat banaai na gai

غزل · Ghazal

میں اک اک آشنا سے آشنا ہوں خلوص ان میں ہے کتنا جانتا ہوں تری بات آئی تھی لب پر ذرا سی زمانے بھر کی باتیں سن رہا ہوں یہ کوئی جانی پہچانی جگہ ہے اچانک چلتے چلتے رک گیا ہوں تماشا ہے یہ میری بے خودی کا میں اپنے آپ میں گم ہو گیا ہوں مری آنکھیں ہیں گویا ان کی آنکھیں جدھر وہ دیکھتے ہوں دیکھتا ہوں ترے خوابوں کی دنیا سامنے ہے میں جھوٹی نیند شاید سو رہا ہوں ترے کوچے میں میلہ لگ رہا ہے میں اک ویران رستے پر کھڑا ہوں یہ مل کر پھر کبھی ملتی نہیں ہیں تری نظروں کو میں پہچانتا ہوں ستم ہو یا کرم اے چرخؔ کچھ ہو محبت کا میں صدقہ بن گیا ہوں

main ik ik aashnaa se aashnaa huun

غزل · Ghazal

تیری زلفوں نے کیا کس پہ کرم رات گئے کس کے ہاتھوں سے نکالے گئے خم رات گئے شب وعدہ کے مصائب کا نہیں میں ہی شکار گھٹنے لگتا ہے ستاروں کا بھی دم رات گئے اوس پڑ جاتی ہے خوشیوں پہ نہ آنے سے ترے سر اٹھاتے ہیں بہم رنج و الم رات گئے ضبط کرتا ہوں مگر ضبط کی حد ہوتی ہے ہم سے رکتی نہیں یلغار الم رات گئے رک گئے سانس مندی آنکھیں اڑے ہوش و حواس کھل گیا دل کے دلاسوں کا بھرم رات گئے لگی لپٹی سے وہ ہوتے ہیں مبرا جذبات جن پہ فنکار اٹھاتا ہے قلم رات گئے راستہ دیکھتی ہیں شام سے نظریں اے چرخؔ وہ نہیں آتے تو ہو جاتی ہیں نم رات گئے

teri zulfon ne kiyaa kis pe karam raat gae

غزل · Ghazal

عقل حیران ہے رحمت کا تقاضا کیا ہے دل کو تقصیر کی ترغیب تماشا کیا ہے انہیں جب غور سے دیکھا تو نہ دیکھا ان کو مقصد اس پردے کا اک دیدۂ بینا کیا ہے ہم شہادت کا جنوں سر میں لیے پھرتے ہیں ہم مجاہد ہیں ہمیں موت کا کھٹکا کیا ہے اڑتا پھرتا ہوں میں صحرا میں بگولے کی طرح کچھ نہیں علم مرا ملجا و ماویٰ کیا ہے میرا منشا ہے کہ دنیا سے کنارا کر لوں اے غم دوست بتا تیرا ارادہ کیا ہے بات پر پیچ ہنسی لب پہ شکن ماتھے پر دل سمجھنے سے ہے قاصر یہ معمہ کیا ہے جو تری زلف پہ جا کر نہ کھلے پھول وہ کیا جو نہ الجھے ترے دامن سے وہ کانٹا کیا ہے ایک کھلتا ہوا گلشن ہے تمہارا پیکر تم تبسم ہی تبسم ہو تمہارا کیا ہے میں نے اک بات جو پوچھی تو بگڑ کر بولے بد گمانی کے سوا آپ نے سیکھا کیا ہے وہ فقیروں کو نوازیں نہ نوازیں اے چرخؔ ہم دعا دے کے چلے آئیں گے اپنا کیا ہے

aql hairaan hai rahmat kaa taqaazaa kyaa hai

Similar Poets