
Chashma Farooqi
Chashma Farooqi
Chashma Farooqi
Ghazalغزل
fitne uTheinge to paighaam-e-tabaahi deinge
فتنے اٹھیں گے تو پیغام تباہی دیں گے اور تاریک فضاؤں کو سیاہی دیں گے میں نے یہ بات کبھی خواب میں سوچی بھی نہ تھی میرے اپنے ہی مخالف کی گواہی دیں گے کون سی راہ ترے در پہ انہیں لے جائے یہ پتہ راہ تمنا کو وہ راہی دیں گے آپ چاہیں تو ہمیں بھول بھی جائیں لیکن حال دل ہم تو کسی روز سنا ہی دیں گے اور نکھرے گی تبھی دار و رسن کی عظمت سر کو حق بات پہ جب حق کے سپاہی دیں گے صرف اپنوں کی شرارت ہے تباہی میں یہاں آپ کس کس کو یہ الزام تباہی دیں گے بے نیازی کا یہ عالم ہے تو اک دن چشمہؔ میرے دل کو وہ تڑپ صورت ماہی دیں گے
ehsaas dekhiye mire ashaar dekhiye
احساس دیکھیے مرے اشعار دیکھیے کیا کہہ رہی ہے آپ سے فن کار دیکھیے ذرے میں حسن مطلع انوار دیکھیے الفاظ کی تراش کا شاہکار دیکھیے تمثیل بن گئی ہو جہاں حسن کی کشش یوسف کے ساتھ مصر کا بازار دیکھیے اہل شعور اہل نظر آپ ہیں تو پھر کیا کہہ رہی ہے وقت کی رفتار دیکھیے اہل ستم کے جبر و تشدد کے باوجود حق بولتا ہے اب بھی سر دار دیکھیے تابانیوں میں اس طرح گم ہو گئی حیات چشمہؔ بھی ہے یہاں پہ گنہ گار دیکھیے
ai rabb-e-zul-jalaal hai meri khataa buland
اے رب ذو الجلال ہے میری خطا بلند لیکن خطا سے بڑھ کے ہے تیری عطا بلند آنکھیں جھکی ہوئی ہیں سروں پر حجاب ہے کردار منفرد ہے جو ہم نے رکھا بلند موتی جھلک رہے ہیں جو شبنم کے اوٹ سے پھولوں سے گلستاں کی ہوئی ہے فضا بلند حسن و جمال چاند ستاروں کا تذکرہ اس داستان شوخ میں سب کچھ کہا بلند کس کا لہو فضاؤں میں پھیلا ہے ہر طرف بدلی سے ہو رہا ہے جو رنگ حنا بلند ٹوٹے ہوئے دلوں کو غزل میں سجا دیا شیشہ گری میں چشمہؔ ہے اس کی ادا بلند
murda ho jaate hain dil maut se Darne vaale
مردہ ہو جاتے ہیں دل موت سے ڈرنے والے زندہ رہتے ہیں ترے نام پہ مرنے والے کون سچائی سے منہ پھیر کے جی سکتا ہے منزلیں پاتے ہیں حق رہ سے گزرنے والے حادثے جب نیا کردار وضع کرتے ہیں انقلاب آتے ہیں دنیا میں نکھرنے والے گھاؤ ہتھیار کا ہوتا تو کوئی بات نہ تھی زخم الفاظ کے یوں ہی نہیں بھرنے والے تم بدل سکتی ہو اس دور کا نقشہ کوئی خود تو چشمہؔ نہیں حالات بدلنے والے





