
Danish Hayat
Danish Hayat
Danish Hayat
Ghazalغزل
خواب دکھائے جائیں گے تعبیر بنائی جائے گی نقش سمیٹے جائیں گے تصویر بنائی جائے گی پہلے کوزہ گر مورت منسوب کرے گا رانجھے سے پھر اس کی ٹیڑھی پسلی سے ہیر بنائی جائے گی بچپن ہی سے ذہنوں میں اک خوف بٹھا کر رکھیں گے اور ہاتھوں پر پنسل سے زنجیر بنائی جائے گی پہلے پہل تو ماتھے ان کے غور سے دیکھے جائیں گے آڑی ٹیڑھی شکنوں پر تقدیر بنائی جائے گی
khvaab dikhaae jaaeinge taa'bir banaai jaaegi
وحشت صدائے دشت ہے وحشت قبائے دشت مجھ پر کسی کی یاد نے کیا کیا بنائے دشت مجھ پر کسی کا ہجر مسلسل نہ کیجیو یا رب ذوالجلال مرے اے خدائے دشت مجنوں کو دیکھ میرے دوارے پہ آ گیا کاسہ اٹھا کے کہتا ہے وحشت برائے دشت جیسے کسی کی سانس اکھڑتی ہوئی لگے جیسے کسی کو راس نہ آئے ہوائے دشت تجھ پر جو نیند خواب کا دہرا عذاب ہے تو کیوں نہ تجھ پہ پھونک دوں پڑھ کر دعائے دشت
vahshat sadaa-e-dasht hai vahshat qabaa-e-dasht
کسی کسی کو سمجھ آتی ہے کہانی بھی ہر ایک شخص پہ کھلتے نہیں معانی بھی یہ لوگ پوچھ رہے ہیں تمہارے بارے میں میں سوچتا ہوں سہولت ہے بے زبانی بھی خلا کا رنج بھی ہے خاک سے محبت بھی زمین زاد بھی ہوں اور آسمانی بھی اب اس طرح تو بچھڑنے سے کچھ نہیں ہوگا کوئی تو راہ نکالو نہ درمیانی بھی بس ایک دشت ہی دیوار تک نہیں آیا ہماری سمت سفر کر رہا ہے پانی بھی میں جانتا ہوں ترا عشق بھی اے جان حیاتؔ ضرور چھوڑ کے جائے گا اک نشانی بھی
kisi kisi ko samajh aati hai kahaani bhi
کہیں تو ہوتا نہیں ہوں ذرا برابر بھی کہیں کہیں پہ تو میں بے حساب ہوتا ہوں خراب ہو تو رہا ہوں تمہاری چاہت میں یہ دیکھنا ہے کہاں تک خراب ہوتا ہوں بوقت فجر ذرا دیر کو سنبھلتا ہے بوقت عصر میں خود پر عذاب ہوتا ہوں
kahin to hotaa nahin huun zaraa baraabar bhi
عین ممکن ہے اذیت سے نکل آئیں گے ہم ترے بعد محبت سے نکل آئیں گے تم بھی دیکھو کبھی دیوار تک آیا ہوا دشت آبلے آنکھ میں وحشت سے نکل آئیں گے ہم بھی پھر گھر سے نکل آئیں گے سیٹی لے کر اور پرندے بھی شرارت سے نکل آئیں گے دوست کانٹوں کو بچھاتے ہوئے تھک جائیں گے اور ہم لوگ مہارت سے نکل آئیں گے ساتھ چھوڑیں گے نہیں ہم ترا آدم کی طرح پیچھے پیچھے ترے جنت سے نکل آئیں گے
'ain mumkin hai aziyyat se nikal aaeinge
آنکھوں سے لگا لو مری اندازۂ وحشت تم کھول نہیں پاؤ گے دروازۂ وحشت ہر آن سنورتی ہوئی آشفتہ مزاجی ہر لحظہ بکھرتا ہوا شیرازۂ وحشت تا حد نظر چاروں طرف زرد اداسی اندر کی طرف کھل گیا دروازۂ وحشت ہے تم کو قسم دشت میں مڑ کر نہیں تکنا آئے بھی تو ہوگا فقط آوازۂ وحشت
aankhon se lagaa lo miri andaaza-e-vahshat





