
Danish Karanjavi
Danish Karanjavi
Danish Karanjavi
Ghazalغزل
مصالحت میں کوئی شر نہ ہو تو اچھا ہے پھر آستینوں میں خنجر نہ ہو تو اچھا ہے درندے شہر کی سڑکوں پہ گھومتے ہوں جہاں وہاں حریف بھی بے گھر نہ ہو تو اچھا ہے جلا کے بستیاں تو ہٹ گیا ہے منظر سے اب اس کی زد میں ترا گھر نہ ہو تو اچھا ہے تری تلاش میں آنے لگا ہوں اپنے قریب تو میری ذات کے اندر نہ ہو تو اچھا ہے اڑا رہا ہوں پتنگیں بنا کے شیشے کی ہوا کے ہاتھ میں پتھر نہ ہو تو اچھا ہے
musaalahat mein koi shar na ho to achchhaa hai
کیوں تیر میرے سینے کے اس پار نہیں ہے شاید تری نظروں میں ابھی دھار نہیں ہے وہ راز دل آنکھوں سے سمجھ جائے تو اچھا مجھ میں تو کہیں جرأت اظہار نہیں ہے ہنستے ہوئے تسلیم کرو دھوپ کی چادر قسمت میں اگر سایۂ دیوار نہیں ہے ٹھوکر جو لگی ہم نے سنبھل کر یہی جانا اک راہ کا پتھر بھی تو بے کار نہیں ہے
kyon tiir mere siine ke us paar nahin hai
اس سے پہلے کہ جھلس جاؤں میں جنگل کی طرح ٹوٹ کے مجھ پہ برس جا کسی بادل کی طرح دل کی دیوار کو ظالم تری امید وصل چاک کرتی ہی چلی جاتی ہے پیپل کی طرح یہ مرا خون جگر ہے اسے ضائع مت کر آنکھ پر اپنی سجا لے اسے کاجل کی طرح اس سے پہلے کہ زمیں بوجھ سمجھ لے ہم کو ہم زمیں اوڑھ کے سو جائیں گے کمبل کی طرح
is se pahle ki jhulas jaaun main jangal ki tarah
لہو بہتا ہے چھالوں سے کلیجہ سوکھ جاتا ہے غموں کی دھوپ میں تپنے سے چہرہ سوکھ جاتا ہے ستم دیکھو فراق یار میں رو بھی نہیں سکتے اگر روتے ہیں تو آنکھوں کا جھرنا سوکھ جاتا ہے بھلا اظہار ہم کیسے کریں اپنی تمنا کا لبوں تک بات آتی ہے تو لہجہ سوکھ جاتا ہے سدا تم حسن ظن رکھنا اگر رشتہ نبھانا ہو غلط فہمی نے دستک دی تو رشتہ سوکھ جاتا ہے زیادہ پاسداری عشق میں اچھی نہیں دانشؔ اگر پانی زیادہ دو تو پودا سوکھ جاتا ہے
lahu bahtaa hai chhaalon se kaleja suukh jaataa hai
ہمارے درمیاں کچھ سلسلے جیسا نہیں لگتا سو اس سے گفتگو کرنا بھی اب اچھا نہیں لگتا یہ ممکن ہے کہ حق گوئی میں میرا سر اتر جائے تمہارے شہر کا منصف مجھے سچا نہیں لگتا بلندی پیڑ سے سائے کی چادر چھین لیتی ہے جو سایہ دار ہوتا ہے بہت اونچا نہیں لگتا میں قیمت دیکھ کر اک دن کھلونا چھوڑ آیا تھا مگر بچی نے مانگا ہے تو اب مہنگا نہیں لگتا اگر مہلت ملے تو عشق کا اظہار کر لینا زیادہ صبر بھی کرنے سے پھل میٹھا نہیں لگتا
hamaare darmiyaan kuchh silsile jaisaa nahin lagtaa
وہ میسر بھی نہیں اور کبھی ہوگا بھی نہیں ہم اسے ڈھونڈنے نکلے جسے دیکھا بھی نہیں اب کے تجدید ملاقات کے ارماں بھی نہیں دل میں اب وہ بھی نہیں اس کی تمنا بھی نہیں اس کی آنکھوں پہ ہم الزام وفا کیا رکھتے اس نے تو آنکھ اٹھا کر ہمیں دیکھا بھی نہیں تشنگی حد سے سوا ہے مری پر کیا کیجیے ہر طرف دشت پڑا ہے کوئی دریا بھی نہیں لگ رہا تھا کہ بچھڑنے پہ نا مر جائے مگر وہ بھی زندہ ہیں برا حال ہمارا بھی نہیں
vo mayassar bhi nahin aur kabhi hogaa bhi nahin





