SHAWORDS
Daniyal Haider Jafri

Daniyal Haider Jafri

Daniyal Haider Jafri

Daniyal Haider Jafri

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

vo mujhe yaad kar rahaa hogaa

وہ مجھے یاد کر رہا ہو گا اور خود سے الجھ پڑا ہو گا سوچتا ہوں وہ کس کی بانہوں میں بعد میرے مچل رہا ہوگا کچھ نہ ہوگا یہ وہم ہے تیرا وہ چلے جائیں گے تو کیا ہوگا دل کسی اور سمت لانے کو اک نیا شغل ڈھونڈھنا ہوگا عشرت نیند ترک کر کے اب اپنے خوابوں کو بیچنا ہوگا مختصر یہ کہ عیش دل کے لیے اپنے ماضی کو بھولنا ہوگا حشر میں ہم کدھر کو جائیں گے جب ادھر وہ ادھر خدا ہوگا ہائے خوش فہمیاں تری حیدرؔ وہ تجھے یاد کر رہا ہوگا

غزل · Ghazal

dekho to kis tarah kaa huun banda-navaaz main

دیکھو تو کس طرح کا ہوں بندہ نواز میں کرتا ہوں دشمنوں سے بھی راز و نیاز میں محشر میں سب سزائیں تو دیں گے ملک مگر کھینچوں گا اہل حسن کی زلف دراز میں دنیا میں کچھ نہیں ہے کہ دنیا تھا ایک شخص پچھتا رہا ہوں مانگ کے عمر دراز میں مانا پسند ہے تجھے احمد فرازؔ پر تو یہ سمجھ ہوں آج کا احمد فرازؔ میں دنیا میں ہو سکے نہ وہ میرے تو کیا ہوا محشر کے روز ان کے اٹھاؤں گا ناز میں

غزل · Ghazal

ab khaana-e-dil mein jo makin hai vo nahin hai

اب خانۂ دل میں جو مکیں ہے وہ نہیں ہے تو سوچ رہا ہے وہ یہیں ہے وہ نہیں ہے اے دل تجھے کس طرح میں سمجھاؤں کہ تجھ کو جس شخص کے ہونے کا یقیں ہے وہ نہیں ہے وہ کفر کا عالم ہے کہ لگتا ہے کبھی تو جو ذات رگ جاں سے قریں ہے وہ نہیں ہے کیا اس پہ کہیں خود کو کہ اک عرصے سے جس کی نقش کف پا پر یہ جبیں ہے وہ نہیں ہے کس طرح چلا جاؤں تری خلد میں واعظ گو ٹھیک ہے یہ خلد بریں ہے وہ نہیں ہے صد حیف بصد ناز گنوایا مجھے اس نے میں تو یہ سمجھتا تھا ذہیں ہے وہ نہیں ہے کیونکر نہیں کرتا تو یہ تسلیم حقیقت اب وہ تری قسمت میں نہیں ہے وہ نہیں ہے حیدرؔ وہ مری جان بہت دور ہے تجھ سے اب چھوڑ دے کہنا وہ یہیں ہے وہ نہیں ہے

غزل · Ghazal

tu du'aa kar ki mire dil se tiraa gham nikle

تو دعا کر کہ مرے دل سے ترا غم نکلے اس سے پہلے کہ مری جان مرا دم نکلے بخش دیتا وہ خطا خلد میں رہنے دیتا پر خدا نے یہی چاہا تھا کہ آدم نکلے ہم سمجھتے رہے جس شخص کو محرم اپنا کیا ستم ہے وہ کسی اور کا محرم نکلے حضرت مجنوں جو اک بار بہ نام لیلیٰ ایڑیاں رگڑے اگر دشت میں زمزم نکلے جن کو آتا ہی نہیں تھا کبھی رونا وہ بھی ان کے کوچے سے جوں ہی نکلے تو پر نم نکلے ایک تو غیر سے تھے ان کے مراسم اس پر سلسلے ان کے مراسم کے بھی پیہم نکلے

غزل · Ghazal

tu us kaa naam to le ye ghulaam aaegaa

تو اس کا نام تو لے یہ غلام آئے گا ہزار بار بصد احترام آئے گا مرا اثاثہ قلم ہے یہ ساتھ لیتا جا یہ تیرے بچوں کے لکھنے کے کام آئے گا کسو کے شہر کے سادہ مزاج لوگوں میں کسو کے بعد ہمارا ہی نام آئے گا پیامبر تجھے میرا پتہ پتا ہے نا اسی پتے پہ مرا اک پیام آئے گا اگر تمہارے کسی کام کا نہیں حیدرؔ چلو بہشت میں حوروں کے کام آئے گا

غزل · Ghazal

sitam vo ahl-e-mohabbat pe Dhaae jaate hain

ستم وہ اہل محبت پہ ڈھائے جاتے ہیں گلی سے ان کی جنازے اٹھائے جاتے ہیں نظر سے میری چھپا کر تجلیاں اپنی زمانے بھر کو وہ جلوہ دکھائے جاتے ہیں تمہارے ہجر کے قصے یہ نامہ بر میرے بروز حشر خدا کو سنائے جاتے ہیں ہوا یہ حکم کہ عاصی جھکائیں سر اپنا یہ روز حشر ہے عاشق اٹھائے جاتے ہیں سما سکے نہ جو دونوں جہان میں یارو قسم خدا کی وہ دل میں سمائے جاتے ہیں دکھائی دیتی ہے توحید اب کے خطرے میں سو تیرے نقش کف پا مٹائے جاتے ہیں ملیں گے وہ ہمیں جنت میں سوچ کر حیدرؔ تصورات میں جنت سجائے جاتے ہیں

Similar Poets