
Daniyal Zaman
Daniyal Zaman
Daniyal Zaman
Ghazalغزل
jhuuT sach khvaab yaqin vahm gumaan marte hain
جھوٹ سچ خواب یقیں وہم گماں مرتے ہیں جو کہیں بھی نہیں مرتے وہ یہاں مرتے ہیں سلب ہو جائے گی بینائی ہمیشہ کے لیے تیری آنکھوں میں اگر خواب رساں مرتے ہیں جینے لگ جائیں تو ہم جیتے ہیں بے نقش و نمود مرنے لگ جائیں تو بے نام و نشاں مرتے ہیں شور کے لطف سے آلود ہیں سب گلیاں اور کسی کونے میں پڑے اہل زباں مرتے ہیں کسی مظہر سے نمودار نہیں ہو پاتے آخرش گمشدۂ زیست کہاں مرتے ہیں کچی عمروں میں غلط فیصلے کرتے ہیں زمانؔ تیرے مایوس ہمیشہ سے جواں مرتے ہیں
aap ki soch se ziyaada thaa
آپ کی سوچ سے زیادہ تھا ایک دن میرے پاس اتنا تھا پہلی حرکت سے بن گئی تھی بات پہلی حرکت سے نقش ابھرا تھا مجھ کو شہرت ملی بغاوت سے ورنہ میں بھی غلام ہوتا تھا بولنا آیا بعد میں مجھ کو پہلے آواز کو میں سنتا تھا روشنی پھوٹنے لگی مجھ سے تیری منت کا جگنو پکڑا تھا عکس سے ریت بن کے نکلا ہوں آئنے کا میں کچھ تو لگتا تھا لوگ بیدار ہو گئے ورنہ بند کمرے میں کس نے سونا تھا رات اس اس کو سبز خواب آئے صبح جس جس نے بیج بونا تھا اس جگہ پر کوئی نہیں تھا مگر آپ نے کہہ دیا لہٰذا تھا
kis kis ko zer-e-aab havaa ki talaash hai
کس کس کو زیر آب ہوا کی تلاش ہے کہتا ہے ہر حباب ہوا کی تلاش ہے اس واسطے بگاڑ رہا ہوں غزل کو میں احساس کو خراب ہوا کی تلاش ہے سر پر پڑی ہوئی ہیں زمانے کی سختیاں اس گرد کو جناب ہوا کی تلاش ہے ہر سطر زندگی پہ ہے لکھا ہوا گھٹن میرا سبھی نصاب ہوا کی تلاش ہے کب سے بھٹک رہا ہے مری چشم حبس میں کیا تجھ کو بھی اے خواب ہوا کی تلاش ہے فتویٰ گران شہر ستم میں ہمیں زمانؔ مرہم دعا شراب ہوا کی تلاش ہے
vo shor thaa ki lafz nahin hai zabaan par
وہ شور تھا کہ لفظ نہیں ہے زبان پر آواز قتل ہونے لگی حرف دان پر میں حالت خمیر میں سب دیکھتا رہا کیا کیا گزر رہا تھا مری ایک جان پر جنگل میں اس لئے ہیں شکاری چھپے ہوئے بیٹھا ہوا ہے کوئی درندہ مچان پر کھلنے میں تھوڑی دیر لگے گی یہ راز بھی کھدر لپیٹ بیٹھا ہوں ریشم کے تھان پر اک شکل آئنے کی سواری پہ لاد لی اک شخص کو سوار کیا اپنے دھیان پر
main gaam-gaam pe jo saans-saans martaa huun
میں گام گام پہ جو سانس سانس مرتا ہوں یہ زندگی وہ تکبر ہے جو میں کرتا ہوں صراط ہجر خط مستقیم ہوتا ہے میں ایک پر چلوں تو دونوں سے گزرتا ہوں یہ شش جہات مرے شانوں پر ٹھہرتے ہیں یہ نقش بعد میں ہے پہلے میں ابھرتا ہوں عجیب خوف ہے یکسانیت سے بڑھتا ہے تمام رات میں لوگوں کی طرح ڈرتا ہوں جناب نے من و سلویٰ سمجھ لیا ہے مجھے جو آسمان سے ان کے لیے اترتا ہوں کوئی نفیس لبادہ ہی زیب تن کر دو میں اچھے کپڑے پہن کر اگر سنورتا ہوں
jaan ganvaaun ki sar bachaa luun main
جاں گنواؤں کہ سر بچا لوں میں کوئی تلوار تو اٹھا لوں میں تم نے فرقت کی شب گزاری ہے کیوں نہ وحشت کا دن منا لوں میں ہو اجازت تو بزم گریہ میں غم ہنسوں درد گنگنا لوں میں ایک صورت مجھے بنانی ہے ایک صورت اگر مٹا لوں میں بھوک لے آئے گی پرندوں کو پھینک دوں جال یا اٹھا لوں میں ایک آواز ہی لگانی ہے ایک آواز پھر لگا لوں میں رات بیزار ہے تو کیوں نہ زمانؔ دل جلا لوں دیا بجھا لوں میں





