SHAWORDS
D

Daood Kaashmiri

Daood Kaashmiri

Daood Kaashmiri

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

surat se jo dikhaai diye the gharib se

صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سے اب رشک ہر کسی کو ہے ان کے نصیب سے پھر اس کے بعد ہم بھی جلیں طور کی طرح بس ایک بار دیکھ لیں ان کو قریب سے جب سنگ ریزہ ہمدم دیرینہ ہو گئے تو تشنگی بجھا گئے جو تھے رقیب سے بے فکر بے خبر چلا جاتا تھا اک ہجوم تھم جاؤ اک صدا تھی وہ کس کی صلیب سے

غزل · Ghazal

hamdam-e-baa-khabar meri tanhaaiyaan

ہمدم با خبر میری تنہائیاں مونس معتبر میری رسوائیاں تنگیٔ ارض کا مجھ کو شکوہ ہے یوں آسمانوں کی دیکھی ہیں پہنائیاں مینڈکوں کی طرح اچھلے تالاب میں ناپتے کیا سمندر کی گہرائیاں وہ جو عضو بدن کی طرح ساتھ تھے یاد ہیں آج بھی ان کی پرچھائیاں دانش و عقل گمراہ کرتی رہی زیست کھوتی رہی کتنی برنائیاں

غزل · Ghazal

har haqiqat hai vahi khvaab-e-pareshaan ki jo thaa

ہر حقیقت ہے وہی خواب پریشاں کہ جو تھا جذبۂ دل ہے وہی چاک گریباں کہ جو تھا مہ جبینوں کو ملے جور کے انداز نئے دل فگاروں کو وہی دیدۂ حیراں کہ جو تھا ہاں شہیدان وفا سر پہ کفن کج ہی رہے دیکھنا آج بھی ظالم ہے پشیماں کہ جو تھا نہ مسیحا نہ ہی منصور نہ فرہاد رہا اب کہاں رونق و ہنگامۂ یاراں کہ جو تھا اک طرف اونچی عمارات ہیں زنداں زنداں اک طرف گھر ہے مرا دشت و بیاباں کہ جو تھا

غزل · Ghazal

gae jo kuche mein us ke to itnaa pyaar milaa

گئے جو کوچے میں اس کے تو اتنا پیار ملا مگر یہ کیا کہ ہر اک شخص بے قرار ملا بھلانا چاہا تھا اس کو مگر بھلا نہ سکے وہ ایک شخص جو رستے میں بار بار ملا حقیقتوں کو فسانوں میں جب سے الجھایا فریب و مکر و سیاست کو اعتبار ملا کسی نے کر دیا برباد اس کا غم بھی نہیں اسی بہانے زمانے کو رازدار ملا انہیں تو وار کے موقع ہزار بار ملے ہمیں دفاع کا موقع نہ ایک بار ملا

غزل · Ghazal

agar jahaan mein khudaa ke sivaa kuchh aur nahin

اگر جہاں میں خدا کے سوا کچھ اور نہیں تو پھر نصیب دعا کے سوا کچھ اور نہیں ہمارے پاس ہمارا ضمیر ہے لوگو تمہارے پاس انا کے سوا کچھ اور نہیں کبھی وفا تھی محبت میں اور خلوص بھی تھا حیات آج جفا کے سوا کچھ اور نہیں وہ خود ہی کہتے ہیں اور خود ہی سنتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس صدا کے سوا کچھ اور نہیں وہ زیب تن کئے کمخواب و ریشم و اطلس ہمیں نصیب ردا کے سوا کچھ اور نہیں

غزل · Ghazal

log gham se Darte hain main khushi se Dartaa huun

لوگ غم سے ڈرتے ہیں میں خوشی سے ڈرتا ہوں تیرگی سے کیا ڈرنا روشنی سے ڈرتا ہوں میں نکل پڑا گھر سے اب سفر میں جو بیتے آگے چلتے رہنا ہے واپسی سے ڈرتا ہوں یہ بھی جانور سارے وہ بھی جانور سارے جانے کیسی بستی ہے آدمی سے ڈرتا ہوں رہزن خلوص جاں رہزن مسرت ہے رہنمائی علم و آگہی سے ڈرتا ہوں سر اٹھا کے جینے کی لذتوں سے واقف ہوں سر اٹھا کے جینے کی بے حسی سے ڈرتا ہوں

Similar Poets