
Dard Sironji
Dard Sironji
Dard Sironji
Ghazalغزل
aa jaao mohabbat ke ye mausam na mileinge
آ جاؤ محبت کے یہ موسم نہ ملیں گے موسم جو پلٹ آئے تو پھر ہم نہ ملیں گے اس طرح اگر خون سے کھیلی گئی ہولی زخموں کے لیے پھر کہیں مرہم نہ ملیں گے عاصی ہوں گنہ گار ہوں بخشش کا طلب گار دفتر مرے عصیاں کے تجھے کم نہ ملیں گے دنیا کی ہر اک شے وہاں مل جائے گی لیکن جنت میں کبھی ہم کو مگر غم نہ ملیں گے جس دور میں احساس کے سینے پہ لگیں زخم اس دور میں اے دردؔ تجھے ہم نہ ملیں گے
zamaane ko khud se na anjaan rakh
زمانے کو خود سے نہ انجان رکھ کوئی منفرد اپنی پہچان رکھ مہک جائے خوشبو سے سارا جہاں سجا کر محبت کا گلدان رکھ جو ہے کامیابی کی چاہت تجھے نظر اپنی منزل پہ ہر آن رکھ ترا کیا بگاڑے گا ظالم جہاں تو ہمت کی سینے میں چٹان رکھ رگ جاں ہے بیوی اگرچہ تری تو ماں باپ کا بھی مگر دھیان رکھ دکھائے گا تجھ کو خدا ایک دن مدینے کا دل میں تو ارمان رکھ پھر احساس ہوگا تجھے دردؔ کا در دل پہ خوں رنگ دربان رکھ
aish-o-ishrat bhare ayyaam se Dar lagtaa hai
عیش و عشرت بھرے ایام سے ڈر لگتا ہے زندگانی ترے انجام سے ڈر لگتا ہے جی رہا ہوں مگر اس درجہ حراساں ہو کر صبح ہوتی ہے تو پھر شام سے ڈر لگتا ہے بے خودی لے کے چلی ہے مجھے منزل کی طرف اب مجھے ہوش کے پیغام سے ڈر لگتا ہے انگلیاں اٹھنے نہ لگ جائیں کہیں غیروں کی رہنے دو آپ کے انعام سے ڈر لگتا ہے درد بڑھ جائے نہ اس تیر نظر کو روکو آپ کے ساتھ تو انجام سے ڈر لگتا ہے
us zulf-e-girah-gir kaa bal khaanaa nayaa hai
اس زلف گرہ گیر کا بل کھانا نیا ہے اس بزم میں شاید کوئی دیوانہ نیا ہے آیا ہے بڑے شوق سے محفل میں ستم گر اے شمع ذرا سوچ لے پروانہ نیا ہے دیکھیں ہیں زمانے میں حسیں اور بھی لیکن اس غیرت گل ناز کا اترانا نیا ہے اے رند قدم اپنا ذرا سوچ کے رکھنا ساقی بھی نیا اور یہ مے خانہ نیا ہے افسانے بہت درد کے دنیا نے سنے ہیں اے دردؔ ترے درد کا افسانہ نیا ہے
gulshan mein thi bahaar abhi kal ki baat hai
گلشن میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے پھولوں پہ تھا نکھار ابھی کل کی بات ہے تم ہی ہمارے واسطے تکتے تھے رہگزر کرتے تھے انتظار ابھی کل کی بات ہے پھولوں کی طرح جن کو رکھا جان سے عزیز بن کر چھپے ہیں خار ابھی کل کی بات ہے اس نے بہت چھپائے مگر غم نہ چھپ سکے آنکھیں تھیں اشک بار ابھی کل کی بات ہے وہ زندگی سے میری بہت دور ہو گیا تھا میرا غم گسار ابھی کل کی بات ہے اے دردؔ تو بھی میری نگاہوں سے گر گیا کرتا تھا تجھ کو پیار ابھی کل کی بات ہے
hamesha maannaa ai yaar mashvara dil kaa
ہمیشہ ماننا اے یار مشورہ دل کا کبھی غلط نہیں ہوتا ہے فیصلہ دل کا بڑا عجیب ہے یارو معاملہ دل کا غم و الم سے ہے دن رات واسطہ دل کا علاوہ اس کے نہ ہمدم نہ کوئی رہبر ہے ہجوم غم لئے پھرتا ہے قافلہ دل کا کبھی خوشی سے کبھی غم میں کیوں دھڑکتا ہے سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے فلسفہ دل کا تمام جسم کے اعضا پہ حکمرانی ہے خدا نے خوب بنایا ہے مرتبہ دل کا ملیں تو ملنے کی رہتی ہے آرزو دل میں الجھ رہا ہے کئی دن سے مسئلہ دل کا تجھے بنائیں گے اپنا بنائیں گے اپنا کوئی بدل نہیں سکتا ہے فیصلہ دل کا اگر عزیز ہے تم کو سکون دل یارو بنائے رکھنا حسینوں سے فاصلہ دل کا غموں کا بوجھ مصائب ہوں یا پریشانی کبھی نہ چھوڑنا اے دردؔ حوصلہ دل کا





