Darshika wasani
بھلا یہ کون ہے میرے ہی اندر مجھ سے رنجش میں وہ مجھ کو ہی گنوا بیٹھا نہ جانے کس کی خواہش میں سمندر ایک ٹھہرا سا ابھی تک ہے ترے اندر ندی بن کر مرا بہنا تجھے ملنے کی کوشش میں دریچے پر کھڑے ہو کر تجھے بس سوچتے رہنا بہت سے کام باقی ہے بہت تھوڑی سی بارش میں مرا وہ روٹھ کر رونا ترا ہنس کے چلے جانا میں تجھ کو بھول نہ جاؤں تجھے پانے کی سازش میں کہیں وہ چیر کر تیرا ہی سینہ بھاگ نا نکلے اسے آزاد کر دو اب جو برسوں سے ہے بندش میں
bhalaa ye kaun hai mere hi andar mujh se ranjish mein