SHAWORDS
Darvesh Bharti

Darvesh Bharti

Darvesh Bharti

Darvesh Bharti

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہا جینا ہمارا تب سے ہی جینا نہیں رہا تیرے خیال و خواب ہی رہتے ہیں آس پاس تنہائی میں بھی میں کبھی تنہا نہیں رہا آنسو بہے ہیں اتنے کسی کے فراق میں آنکھوں میں اک بھی وصل کا سپنا نہیں رہا درپیش آ رہے ہیں وہ حالات آج کل اپنوں کو اپنوں پر ہی بھروسہ نہیں رہا نفرت کا زہر پھیلا ہے لیکن کسی میں آج مل بیٹھ سوچنے کا بھی جذبہ نہیں رہا دار و مدار زندگی جس پر تھا وہ بھی تو جیسا سمجھتے تھے اسے ویسا نہیں رہا یہ نسل نو ہے اتنی مہذب کہ اس میں آج درویشؔ گفتگو کا سلیقہ نہیں رہا

jab se kisi se dard kaa rishta nahin rahaa

غزل · Ghazal

خوش فہمیٔ ہنر نے سنبھلنے نہیں دیا مجھ کو مری انا ہی نے پھلنے نہیں دیا چاہا نئے سے ریتی رواجوں میں میں ڈھلوں لیکن روایتوں نے ہی ڈھلنے نہیں دیا ایک ایک شے بدلتی گئی میرے آس پاس حالات نے مجھے ہی بدلنے نہیں دیا چلنا تھا ساتھ ساتھ ہمیں عمر بھر مگر ناپائیدار عمر نے چلنے نہیں دیا دل مے کدے کی سمت چلا تھا مگر اسے اس راستے پہ عقل نے چلنے نہیں دیا انجام آرزو کا برا ہے بس اس لئے دل میں کبھی چراغ یہ جلنے نہیں دیا درویشؔ بے قرار رہا دل تمام عمر موقع سکوں کا ایک بھی پل نے نہیں دیا

khush-fahmi-e-hunar ne sambhalne nahin diyaa

غزل · Ghazal

جب محبت کا کسی شے پہ اثر ہو جائے ایک ویران مکاں بولتا گھر ہو جائے میں ہوں سورج مکھی تو میرا ہے دل بر سورج تو جدھر جائے مرا رخ بھی ادھر ہو جائے رنج و غم عیش و خوشی جس کے لیے ایک ہی ہوں عمر اس شخص کی شاہوں سی بسر ہو جائے جو بھی دکھ درد مصیبت کا پئے وش ہنس کر کیوں نہ سقراط کی صورت وہ امر ہو جائے لوٹ آؤ جو کبھی رام کی صورت تم تو من کا سنسان اودھ دیپ نگر ہو جائے کھا کے پتھر بھی جو مسکان بکھیرے ہر سو باغ عالم کا وہ پھل دار شجر ہو جائے ہم نے جانا ہے یہی آ کے جہاں میں درویشؔ ہونا چاہے جو نہ ہرگز وہ بشر ہو جائے

jab mohabbat kaa kisi shai pe asar ho jaae

غزل · Ghazal

درد اوروں کا دل میں گر رکھئے بے غرض ہو کے عمر بھر رکھئے ہو ہی جائیں گی مشکلیں آسان عقل سا ایک راہبر رکھئے پاؤں ٹھہریں خیال چلتے رہیں ایک ایسا بھی تو سفر رکھئے اس کے دم سے ہے آبرو کا وجود اپنے کردار پر نظر رکھئے ہو اشارہ کہ بہہ سکے نہ ہوا آنکھ میں اتنا تو اثر رکھئے دوستی میں ہے شرط یہ درویشؔ ذکر میں تو کا طاق پر رکھئے

dard auron kaa dil mein gar rakhiye

غزل · Ghazal

سامنے جو کہا نہیں ہوتا تم سے کوئی گلہ نہیں ہوتا جو خفا ہے خفا نہیں ہوتا ہم نے گر سچ کہا نہیں ہوتا اس میں جو ایکتا نہیں ہوتی گھر یہ ہرگز بچا نہیں ہوتا جانتا کس طرح کہ کیا ہے غرور وہ جو اٹھ کر گرا نہیں ہوتا ناؤ کیوں اس کے ہاتھوں سونپی تھی ناخدا تو خدا نہیں ہوتا تپ نہیں سکتا دکھ کی آنچ میں جو خود سے وہ آشنا نہیں ہوتا پریم خود سا کرے نہ جو سب سے پھر وہ درویشؔ سا نہیں ہوتا

saamne jo kahaa nahin hotaa

Similar Poets