
Daur Afridi
Daur Afridi
Daur Afridi
Ghazalغزل
تم تھے اور آلام بہت تھے اور وہ صبح و شام بہت تھے تجھ میں بھی کچھ بات ہے ورنہ دیوانے بدنام بہت تھے میں ہی رہا اک پیاس کا مارا میخانے میں جام بہت تھے چند ہی نظریں واں تک پہنچیں نظارے سر بام بہت تھے زانو و سر کی لاج رہی ہے پہرے تو ہر گام بہت تھے آپ مرا کیوں دم بھرتے ہیں مجھ پر ہی الزام بہت تھے فکر دورؔ کو تم سے پہلے تیرے میرے کام بہت تھے
tum the aur aalaam bahut the
جہاں چھیڑ دے کوئی ان کا فسانہ ہمہ رنگ لفظوں کی جنت سجانا تمہارے ہمارے ہی دم سے ہے روشن دل و جاں کی رنگینیوں کا زمانہ یہ کیسی ادا ہے بہ طرز محبت کبھی یاد رکھنا کبھی بھول جانا ہمیں چاہئے صرف تیرا تصور اگرچہ یہ دنیا ہے تصویر خانہ ہر اک تیرے حسن تصور کا شیدا ہو ادنیٰ و اعلیٰ کہ نادان و دانا طلوع سحر ہے کہ تم سامنے ہو یہ کندن سا مکھڑا یہ گیسو یہ شانہ ترے دور نے تجھ سے مانگی محبت محبت نے بخشا تجھے مسکرانا
jahaan chheD de koi un kaa fasaana
وہ تیرے غم کو پہچانے نہیں ہیں ابھی اپنوں میں بیگانے نہیں ہیں ہزاروں محفلیں ایسی ہیں جن میں ہمارے غم کے افسانے نہیں ہیں جو بھر جائیں وہ پیمانے ہی سمجھو جو خالی ہیں وہ پیمانے نہیں ہیں ترے کوچے کی رونق ہے ہمیں سے ترے کوچے میں دیوانے نہیں ہیں ذرا بن ٹھن تو لے اے زندگانی برائے حسن ویرانے نہیں ہیں جہان دل ربائی اللہ اللہ جہاں تم ہو تو فرزانے نہیں ہیں وہاں ہی تلخیاں پیتا رہا ہوں جہاں اے دورؔ میخانے نہیں ہیں
vo tere gham ko pahchaane nahin hain
ترے نگاہ کرم جب بکھر گئی ہوگی کسی غریب کی دنیا سنور گئی ہوگی تجھی کو ڈھونڈھتی پھرتی ہیں در بدر آنکھیں ازل کے روز تجھی پر نظر گئی ہوگی سکوت ساز دوعالم سنائی دیتا ہے ترے فراق میں دنیا ٹھہر گئی ہوگی سحر کے چاہنے والے کا کیا ہوا ہوگا بہ نام تیرہ شبی جب سحر گئی ہوگی وہ اک خبر کہ جو رسوائیوں کا باعث تھی ہزار رنگ میں وہ اک خبر گئی ہوگی سحر کے نرم و خنک دودھیا اجالوں میں ترے جمال کی رنگت بکھر گئی ہوگی یہ شش جہت ہے ترے قاتلوں کا دیس تو پھر ترے خلوص کی ارتھی کدھر گئی ہوگی
tire nigaah-e-karam jab bikhar gai hogi
میں نے چاہت کے گیت گائے تھے سننے والے مگر پرائے تھے عمر بھر کو خوشی کا روگ لگا ایک دو دن کو مسکرائے تھے راحتیں ہی نہ کر سکے حاصل راحتوں کے محل بنائے تھے میرے خوابوں کی روشنی میں کبھی ان لبوں پر لبوں کے سائے تھے کس نے کھینچیں جفا کی تلواریں کس نے ارماں کے خوں بہائے تھے بہہ رہی ہیں نشاط کی ندیاں کیا اشارے تھے کیا کنائے تھے میں نے چاہت کے آسماں پر دوست چاند تاروں کے دف بجائے تھے ہائے وہ دن جو تیرے ساتھ گئے نغمہ و نور میں نہائے تھے
main ne chaahat ke giit gaae the
غم دل کو بدل جانے کی ضد ہے مگر خوشیوں کو ٹل جانے کی ضد ہے بگڑتی جا رہی ہے میری دنیا مگر مجھ کو سنبھل جانے کی ضد ہے ہر اک طوفاں کو پیچھے چھوڑ آؤں حوادث سے نکل جانے کی ضد ہے مری فطرت بدل جائے تو کیسے تری باتوں کو کھل جانے کی ضد ہے ترے زانو پہ میرا سر ہے لیکن مقدر کو مچل جانے کی ضد ہے مرے جذبات کو تسکین دینا سمندر کو ابل جانے کی ضد ہے خلاف زور فطرت دورؔ بہتر مگر فکروں کو پل جانے کی ضد ہے
gham-e-dil ko badal jaane ki zid hai





