Dawood Kashmiri
Dawood Kashmiri
Dawood Kashmiri
Ghazalغزل
ہر حقیقت ہے وہی خواب پریشاں کہ جو تھا جذبۂ دل ہے وہی چاک گریباں کہ جو تھا مہ جبینوں کو ملے جور کے انداز نئے دل فگاروں کو وہی دیدۂ حیراں کہ جو تھا ہاں شہیدان وفا سر پہ کفن کج ہی رہے دیکھنا آج بھی ظالم ہے پشیماں کہ جو تھا نہ مسیحا نہ ہی منصور نہ فرہاد رہا اب کہاں رونق و ہنگامۂ یاراں کہ جو تھا اک طرف اونچی عمارات ہیں زنداں زنداں اک طرف گھر ہے مرا دشت و بیاباں کہ جو تھا
har haqiqat hai vahi khvaab-e-pareshaan ki jo thaa
مے خانہ کی رونق ہے جدا شان حرم اور مے کش کا مزاج اور ہے زاہد کا بھرم اور ناکامیٔ تکمیل تمنا ہے اک آغاز اسباب غم جاں تو ابھی ہوں گے بہم اور کچھ دشت نوردی کے تو کچھ کوہ کنی کے افسانۂ تشہیر وفا ہوں گے رقم اور پسپائی پہ آمادہ جو سرداروں کو دیکھا ہم لے کے بڑھے خون تمنا کا علم اور اک لفظ کہ تفسیر بنا خون جگر کی ہے زیست کا مفہوم کہ مولا کا کرم اور
mai-khaana ki raunaq hai judaa shaan-e-haram aur
میری وفا مقیم ہے گرد و غبار میں آہستہ چلنا باد صبا کوئے یار میں ہم ہیں فریب خوردہ مگر بے خبر نہیں مفہوم زندگی ہے فقط اعتبار میں روٹی تو رشتہ بن نہ سکی کوئی دیس ہو ایسی محبتیں تو ہیں اپنے دیار میں ہر شخص مضطرب ہے ہر اک شخص بے قرار حاصل سکوں توکل پروردگار میں سچ کہہ کے کیا گناہ کیا سوچتے ہیں اب رشتے تمام قطع ہوئے ایک بار میں
meri vafaa muqim hai gard-o-ghubaar mein
عجب حسرت سے تکتے ہیں نگر کے بند در مجھ کو چلا جاتا ہوں لے جاتی ہے تنہائی جدھر مجھ کو سمجھتے ہیں وہ لیڈر یا کوئی درویش مستانہ کوئی کھینچے ادھر مجھ کو کوئی کھینچے ادھر مجھ کو کیوں اک منزل پہ ٹھہرا ہوں ہے یہ اصرار بے معنی کوئی مجھ سے تو پوچھے آخرش جانا کدھر مجھ کو میں کتنی دور آ پہنچا ہوں اندازے سے کیا حاصل صدا لگتی ہے خاموشی بلائے لاکھ گھر مجھ کو میں سادہ لوح میں ناواقف جرم و سزا پھر بھی نہ جانے کس لئے ڈھونڈے ہے یہ سارا نگر مجھ کو
ajab hasrat se takte hain nagar ke band dar mujh ko
شراب پینے کی عادت بہت پرانی ہے مرے شباب کی باقی یہی نشانی ہے وہ بادہ خوار سے خونخوار ہو گیا کیونکر اسے سناتے ہو جس کی لکھی کہانی ہے قدم زمین پہ لیکن نظر فلک پیما ہر اک زمانہ میں مشہور نوجوانی ہے جنوں کے کوچے میں کچھ روز تو ٹھہر جاؤ خرد میں بیتی جو عمر رواں وہ فانی ہے کبھی اداس کبھی قہقہے لگاتی ہے سمجھ لو دوستو یہ زندگی دوانی ہے سنا ہے ہم نے بھی خاموش مفسدوں کی قسم نظر لگے نہ فضا شہر کی سہانی ہے
sharaab piine ki aadat bahut puraani hai
درد اک شمع تفکر ہے اگر سمجھو تو فہم انساں کا تبحر ہے اگر سمجھو تو میٹھے بولوں میں نہیں محض تسلی میں نہیں جہد پیہم کا تصور ہے اگر سمجھو تو یہ حقیقت کے قلم سے لکھا افسانہ ہے یہ ہی عرفان تفکر ہے اگر سمجھو تو یہ عبادت ہے تہجد کی یہ ہوگی مقبول جوش امید سے یہ پر ہے اگر سمجھو تو تیشۂ کوہ کنی آتش نمرود ہے یہ آزمائش کا تقرر ہے اگر سمجھو تو عکس اس کا نہیں آئینۂ تقدیر میں ہاں دعوت فکر و تدبر ہے اگر سمجھو تو
dard ik shama-e-tafakkur hai agar samjho to





