SHAWORDS
D

Deepak Danish

Deepak Danish

Deepak Danish

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

پردوں سے گھر کے راز چھپائے گا کیا کوئی پھولوں سے گھر کا روپ کھلائے گا کیا کوئی مشکل سے گھر کی بند ہوا پر ہے اختیار باہر ہوا کو راہ دکھائے گا کیا کوئی محنت سے تھک کے چور گناہوں کی بھیڑ کو اچھے برے کا فرق سکھائے گا کیا کوئی بازار اب ہے زیست کی روح رواں مگر آب و ہوا کے دام لگائے گا کیا کوئی ہر قسم کی شراب میسر ہوئی تو کیا پانی سے بڑھ کے پیاس بجھائے گا کیا کوئی آگے نکل چکی ہے حیا سے نظر کی بات دانشؔ کسی سے آنکھ ملائے گا کیا کوئی

pardon se ghar ke raaz chhupaaegaa kyaa koi

غزل · Ghazal

امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہے بجھے دل کو سجی محفل کا در ویران لگتا ہے ہو کوئی ہم سفر ایسا جو دل کو ہم نفس گزرے اسی حسرت پہ ہر لمحہ مجھے قربان لگتا ہے یقیناً ہے خبر میں آج رب کی بے زباں دنیا مگر انسان کل کی فکر کا سامان لگتا ہے فضا میں یوں تکلف ہے ہوا میں یوں ہے بیداری کہ دل ایوان ہستی میں فقط مہمان لگتا ہے کھلی کھڑکی سے دانشؔ امن کے اخبار روزانہ یہ منظر اب کسی فردوس کا عنوان لگتا ہے

umangein dil mein hon sahraa bhi aalishaan lagtaa hai

غزل · Ghazal

ہر ذرہ چمن زار کی زینت کا سبب ہے محفل میں چمن زار کی ہر شے کا ادب ہے اک عمر بدستور گزر جائے تو بہتر گو دل میں بدستور ٹھہرنے کی طلب ہے کچھ یوں ہے مقدر کی حقیقت کہ جہاں میں ظلمت ہے کہیں دن میں کہیں نور کی شب ہے ہر چیز میں تعمیل خرد کی نہ ہو لیکن ہر چیز پہ اس چیز کا دعویٰ تو عجب ہے رکھنے کو تبدل کا بھرم مڑ کے جو دیکھا ویسی ہی تھی دنیا مری جیسی کہ وہ اب ہے دنیا نہ ہو فردوس پر اتنا تو ہے دانشؔ جیسی بھی ہے دنیا مری ہستی کا سبب ہے

har zarra chaman-zaar ki zinat kaa sabab hai

Similar Poets