SHAWORDS
Deepak Kamil

Deepak Kamil

Deepak Kamil

Deepak Kamil

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

رو رہے ہیں ہم بھی کیسے پتھروں کے سامنے پھول کیا جیتے کبھی ہیں برچھیوں کے سامنے طاق پر رکھے ہیں سپنے اور ہنر صندوق میں زندگی نے ہار مانی روٹیوں کے سامنے کس کی جانب تھے چلے ہم کس کی جانب آ گئے کیا کریں جب راستے ہوں راستوں کے سامنے آرزو بھی جستجو بھی حوصلے بھی جوش بھی علم تک بھی کچھ نہیں ہے تجربوں کے سامنے کچھ غموں سے ڈرنے والے ہو گئے مضبوط تب حادثے ہونے لگے جب حادثوں کے سامنے اس سے بڑھ کر بے بسی کاملؔ بھلا ہوتی بھی کیا باپ کو رونا پڑا ہے بیٹیوں کے سامنے

ro rahe hain ham bhi kaise pattharon ke saamne

غزل · Ghazal

شہرتیں دے عزتیں دے تالیاں دے شاعری ہاں مگر اس سے بھی پہلے روٹیاں دے شاعری اس جہاں میں پیار کو ملتا نہیں ہے پیار ہی میرے لہجے میں بلا کی تلخیاں دے شاعری واقعی جو نام لیوا ہیں ترے سنسار میں کم سے کم ان کو تو مت گم نامیاں دے شاعری کب تلک دیکھیں یہاں دیکھی دکھائی زندگی زندگی میں نت نئی حیرانیاں دے شاعری اب کے بھی تیوہار پر وہ شعر ہی سن رو پڑی کان میں بیٹی کے اب کے بالیاں دے شاعری جن چراغوں نے ترا گھر روشنی سے بھر دیا ان کو اجرت میں بھلا کیوں آندھیاں دے شاعری جن سے تیری محفلیں آباد ہیں شاداب ہیں ان کو تحفے میں نہ یوں بربادیاں دے شاعری واقعی کاملؔ بنانا چاہتی ہے گر مجھے تو مجھے زخم ہنر کی سیپیاں دے شاعری

shohratein de 'izzatein de taaliyaan de shaa'iri

غزل · Ghazal

لوگ سمجھتے رہ جائیں گے ایک پہیلی ہو جائے گی بھیڑ کو میں نے چھوڑ دیا تو بھیڑ اکیلی ہو جائے گی دیوانوں کی صحبت میں یوں اور تو کچھ ہو نا ہو لیکن اتنا طے ہے نیندیں بیری رات سہیلی ہو جائے گی عشق میں رسوا عشق میں تنہا ہونے والے جھوٹھے ہیں سب کر کے دیکھو صبح بنارس شام بریلی ہو جائے گی جس پل بھی دیکھے گی تجھ کو اس پل سے میں ڈرتا ہوں آنکھ مری ضدی بچے کی بند ہتھیلی ہو جائے گی

log samajhte rah jaaeinge ek paheli ho jaaegi

غزل · Ghazal

چلنے دو جیسے چلتی ہے بہتی ہوئی ہوا سانسیں اکھاڑ دیتی ہے ٹھہری ہوئی ہوا ان کے ہنر کا شور بھی قابل ہے داد کے جن کو ملی نصیب میں سہمی ہوئی ہوا اس سے وفا کی چھوڑ دیں امید آپ بھی اس کی ہوئی نہ یہ کبھی اس کی ہوئی ہوا چپ سی کھڑی ہوا کو نہ آنکھیں دکھائیے پگڑی اچھال دے گی یہ بگڑی ہوئی ہوا بے حد خوشی سے کاٹیے پیڑوں کو آپ تو دیکھی نہیں ہے آپ نے جلتی ہوئی ہوا

chalne do jaise chalti hai bahti hui havaa

غزل · Ghazal

جنگلوں کا ساحلوں کا وادیوں کا کیا کریں جب مزہ ہے راستوں میں منزلوں کا کیا کریں آدمی کا کیا کریں یہ سوچتی ہیں عورتیں آدمی یہ سوچتے ہیں عورتوں کا کیا کریں زندگی کا آئنہ جب ہر گھڑی ہو سامنے گھر میں رکھ کر ہم بھلا پھر آئنوں کا کیا کریں ہم بھی اوروں کی طرح محفوظ جی لیتے مگر کیا کریں ہم کیا کریں ان حوصلوں کا کیا کریں عادتاً کر ہی دیا ہم نے تو ان کا ذکر پھر دل کو تو ہم روک لیں پر عادتوں کا کیا کریں دوستی کو چھوڑ کر ہر کام یاروں نے کیا آپ ہی بتلائیے ان دوستوں کا کیا کریں آپ کیوں کرتے نہیں ہیں کرنے والے کام کو آپ کی کاملؔ انہیں ہم غفلتوں کا کیا کریں

jangalon kaa saahilon kaa vaadiyon kaa kyaa karein

غزل · Ghazal

سب تو ہیں آس پاس دنیا میں کیوں ہیں پھر بھی اداس دنیا میں ان کے دکھ کا حساب مشکل ہے جو بھی ہیں غم شناس دنیا میں بڑی فکر لباس ہے ان کو جو بھی ہیں بے لباس دنیا میں خوبصورت جہاں میں کیوں ہم کو ہم ہی آئے نہ راس دنیا میں یہ گھنی تیرگی بتاتی ہے جلد ہوگا اجاس دنیا میں پاس دریا ہے سب کے پر کاملؔ کس کی بجھتی ہے پیاس دنیا میں

sab to hain aas-paas duniyaa mein

Similar Poets