
Deepak Qamar
Deepak Qamar
Deepak Qamar
Ghazalغزل
رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں دیکھتے ہیں سب تماشا کیا کہیں سخت پھندا ہے ہزاروں سال کا کس نے بن گانٹھوں کے باندھا کیا کہیں جگنوؤں کا جھنڈ من میں آ بسا ہے اجالا یا اندھیرا کیا کہیں لینے دینے سے ہوئے کتنے وہ خوش کھا گئے دونوں ہی دھوکا کیا کہیں بادلوں کے پیڑ اگ آئے گھنے کب دھنک ڈالے گی جھولا کیا کہیں بیل کولہو میں ہے کب سے گھومتا کیسی منزل کیسا رستہ کیا کہیں
raat din chaltaa hai charchaa kyaa kahein
اندھیرے میں بلا سی اداسی ہی اداسی کسی کے تن کی خوشبو پھرے اڑتی ہوا سی محبت کو زباں دی خموشی کی دعا سی وہی انساں درندہ مگر صورت جدا سی یہ بے قابو طبیعت لگے پیاری خطا سی چڑھی امڑی جوانی نئی رت کی گھٹا سی کھلی خواہش کی کونپل بہت کمسن ذرا سی
andhere mein balaa si
پھول پتوں کا سلسلہ ہوگا گھر ہمارا ہرا بھرا ہوگا جانے ور ہے کہ شاب ہے کوئی سب میں رہ کے بھی وہ جدا ہوگا بوجھ لگتا ہے دل پہ پربت سا دیکھ کر بھی وہ چپ رہا ہوگا اب ارادوں کی باگ کو کھولیں قافلہ تو گزر گیا ہوگا چاند سورج کو چھوڑ کر اک دن اپنے ہاتھوں میں اک دیا ہوگا جو لگائے گا سوچ پر بندھن بات بے بات بھی خفا ہوگا تیری کھڑکی میں جو چہکتا ہے وہ پکھیرو کبھی ہوا ہوگا
phuul patton kaa silsila hogaa
آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے تم حقیقت کے لیے وہم و گماں ڈھونڈو گے کون سی آس میں یہ سارا جہاں ڈھونڈو گے ایک آوارہ سی خوشبو کو کہاں ڈھونڈو گے ساتھ کچھ روز کا ہے راستہ چلتے لوگو ہم چلے جائیں گے قدموں کے نشاں ڈھونڈو گے تیر ترکش میں اگر بچ بھی گئے تو کیا ہے مل نہ پائے گی کہیں اپنی کماں ڈھونڈو گے رات کی گود میں خوشیوں کے ستارے بھر لو پھر تو سورج کو لیے ایسا سماں ڈھونڈو گے جب چلے جائیں گے بنجارے بہاریں لے کر پھول والوں کی نگر بھر میں دکاں ڈھونڈو گے اس سرائے سے نکل آگے بڑھو گے جب بھی چاند تاروں سے پرے اپنا مکاں ڈھونڈو گے
aag ke phuul pe shabnam ke nishaan DhunDoge
ہر پرندے کی بات سنتا ہے بے زباں پیڑ سب سے اچھا ہے جس قدر ہم نے بھید سمجھا ہے کوئی منزل نہ کوئی رستہ ہے ان اندھیروں کو کس لئے کوسیں روشنی بن کے پھول کھلتا ہے چلنے والا نکل گیا آگے قافلہ راستے میں ٹھہرا ہے جس کی خاطر ہیں جاگتے رہے ہم وہ ابھی پالنے میں سوتا ہے ان دنوں میں ہوں تنہا تنہا سا ایک گم سم خیال رہتا ہے بے گھروں کے قدم نہیں رکتے ان کا آنگن تمام دنیا ہے دل بہلتا ہجوم میں رہ کر خود سے ڈرتا ہوا وہ تنہا ہے کل کی باتوں سے بے خبر ہم ہیں سات جنموں کا کیا بھروسا ہے
har parinde ki baat suntaa hai
نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا وہاں پہنچے تو اپنے آپ کو بھی بے نظر دیکھا یہ دھوکا تھا نظر کا یا فرشتہ سبز چادر میں کہیں صحرا میں لہراتا ہوا اس نے شجر دیکھا کہیں پہ جسم اور پہچان دونوں راہ میں چھوڑے خود اپنے آپ کو ہم نے نہ اپنا ہم سفر دیکھا بنے کیا آشیاں تازہ ہوا نہ پیڑ کے جھرمٹ کسی اڑتے پرندے نے نئے یگ کا نگر دیکھا لگے تھے آئنہ چاروں طرف شاید محبت کے نظر کے سامنے تھا بس وہی ہم نے جدھر دیکھا زمیں کی سیج پر سائے کی چادر اوڑھ کر سویا کسی بنجارے سیلانی نے رستے میں ہی گھر دیکھا کبھی ہم ڈوب جائیں گے اسی میں سوچتے ہر دم ہمارے دل نے جب دیکھا حبابوں کا بھنور دیکھا
nazar aayaa na koi bhi idhar dekhaa udhar dekhaa





