SHAWORDS
Devdas Bismil

Devdas Bismil

Devdas Bismil

Devdas Bismil

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جب جب تیری آنکھ سے ٹپکا آنسو شبنم روئی ہے جیسے شمع جلی ہے شب بھر تھک کے صبح کو سوئی ہے جو بوؤ گے وہ کاٹو گے قدرت کا قانون ہے یہ ہم تو کیکر کاٹ رہے ہیں کیسی فصل یہ بوئی ہے خون کے دریا تیر کے ہم نے آزادی حاصل کی تھی پر ساحل پہ پہنچ کے ہم نے خود ہی ناؤ ڈبوئی ہے مظلوموں نے پامالوں نے ظلم سہے ہیں صدیوں سے ہر اک دور میں ان لوگوں نے بس سولی ہی ڈھوئی ہے رستے رستے خار بچھے ہیں منزل منزل شعلے ہیں دل کی راہ پہ چل کر ہم نے اپنی ہستی کھوئی ہے بسملؔ عمر گنوائی سچ پر ایماں پر قربان ہوئے جب انصاف کی آس لگائی تب تب آنکھ بھگوئی ہے

jab jab teri aankh se Tapkaa aansu shabnam roi hai

1 views

غزل · Ghazal

ڈرتا ہوں کہیں اے دوست مرے یہ پیار مرا بدنام نہ ہو جس طرح سے ٹوٹے لاکھوں دل اپنا بھی وہی انجام نہ ہو یہ ظالم دنیا ہے ساتھی کب دو دل ملنے دیتی ہے ایسی ہی تلخ جدائی کی اب اپنی کوئی شام نہ ہو ہیں بیچ میں کتنی دیواریں مذہب کی سماجوں رسموں کی اس قید میں ہم بھی دم توڑیں قسمت میں یہی انعام نہ ہو الفت کے ہاتھ تھمایا ہے دنیا نے زہر کا پیمانہ کتنوں نے پیا یہ جام سم اپنے بھی لئے یہ جام نہ ہو بدنام ہے ہر پہچان یہاں ہے جرم یہاں ہر اک رشتہ اک روز ہمارے سر بسملؔ ایسا ہی کوئی الزام نہ ہو

Dartaa huun kahin ai dost mire ye pyaar miraa badnaam na ho

1 views

غزل · Ghazal

جب دل ٹوٹا دیوانے کا آغاز ہوا افسانے کا تب اور شمع کی لو بھڑکی جب جسم جلا پروانے کا جب اپنا ہی اپنا ہی اپنا نہ رہا تب شکوہ کیا بیگانے کا جب اپنے ہاتھوں زہر پیا کیا جرم ہے تب پیمانے کا جب ہر دروازہ بند ہوا بس وا ہے در میخانے کا اب درد کے مارے کیسے جئیں اور رستہ نہیں مر جانے کا جب دل کی جلن برداشت نہ ہو کیا ساماں دل بہلانے کا امیدیں بسملؔ ٹوٹ گئیں کیا سمجھانا دیوانے کا

jab dil TuuTaa divaane kaa

غزل · Ghazal

اک بار محبت میں یہ دل جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا مالا میں پرویا سو موتی جو چھوٹ گیا سو چھوٹ گیا دل ایسا نازک شیشہ ہے یہ پھر سے نہ جوڑا جاتا ہے اک بار کسی کے ہاتھوں سے جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا الفت کا مقدر بھی ظالم بس بلبلے جیسا ہوتا ہے یہ بلبلہ بن کر پانی پر جو پھوٹ گیا سو پھوٹ گیا اک بار ہی جوڑا جاتا ہے اک دل سے رشتہ اک دل کا وہ خواب نہ پھر سے آتا ہے جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا بے معنی شکایت اور شکوے ہاتھوں کا ملنا بے معنی اک بار وفا کی راہوں میں جو لوٹ گیا سو لوٹ گیا

ik baar mohabbat mein ye dil jo TuuT gayaa so TuuT gayaa

غزل · Ghazal

حد نظر تک ویرانے ہیں آبادی کا نام نہیں کس رستہ پہ قدم بڑھاؤں کوئی رستہ عام نہیں جلتا ریگستان ہے ہر سو تند ہوائیں چلتی ہیں دھو دھو کرتی ہے دوپہری صبح نہیں ہے شام نہیں ساری عمر گزاری میں نے خون کے آنسو پی پی کر خوشیوں کے دو گھونٹ پلا دے ایسا کوئی جام نہیں تنہا ہوں میں اس دنیا میں کوئی نہیں ہے میرے ساتھ کس کو اب آواز لگاؤں کچھ بھی تو انجام نہیں در در جا کر دستک دی ہے پر اک در بھی وا نہ ہوا ہر سو خاموشی ہے بسملؔ کہیں سے کچھ پیغام نہیں

hadd-e-nazar tak viraane hain aabaadi kaa naam nahin

غزل · Ghazal

زندگی ہم پہ مہرباں نہ ہوئی پھر بھی امید بد گماں نہ ہوئی پنکھ ٹوٹے ہیں گو اڑانوں میں چشم محروم آسماں نہ ہوئی دل پہ گرچہ سکوت چھایا تھا آتما اپنی بے زباں نہ ہوئی جاری تھا یوں سفر حوادث میں سست رفتار کارواں نہ ہوئی پاؤں چھلنی ہوئے مگر بسملؔ دولت عزم ناتواں نہ ہوئی

zindagi ham pe mehrbaan na hui

Similar Poets