
Dharam Singh Malviya
Dharam Singh Malviya
Dharam Singh Malviya
Ghazalغزل
kitnaa bharaa hai dard yahaan is jahaan mein
کتنا بھرا ہے درد یہاں اس جہان میں آتی نہیں ہے نیند ہمیں اب تھکان میں کیسے تمہارے پاس میں آ کر کے بیٹھتے منزل بھی دے رہی تھی صدا آ کے کان میں جب سے گیا ہے چھوڑ کے آیا نہ لوٹ کر جالے سے پڑ گئے ہیں جی دل کے مکان میں ایسے قلم کا یار یہاں ٹوٹنا سہی گاتا رہا جو گیت ہے تختوں کی شان میں کوئی بتا دے یار مجھے تو خرید لوں ملتی ہے درد دل کی دوا کس دکان میں تم کو ذرا سی آج یہ شہرت جو مل گئی اڑنے لگے ہو یار دھرمؔ آسمان میں
apnaa kahte hain magar apnaa banaate kab hain
اپنا کہتے ہیں مگر اپنا بناتے کب ہیں وعدہ کرتے ہیں مگر لوگ نبھاتے کب ہیں یار تو آس نہ کر اس کے پلٹ آنے کی جو چلے جاتے ہیں وہ لوٹ کے آتے کب ہیں ہم کو کرنا ہے سفر ان کی گلی کا لیکن دیکھنا ہے کہ وہ ہم کو بھی بلاتے کب ہیں مشورے دیتے ہیں بس لوگ یہاں پر اکثر ساتھ دینے کے لیے ہاتھ بڑھاتے کب ہیں کوئی اس کو بھی ذرا یہ تو بتائے جا کر پیار کرتے ہیں جسے اس کو بھلاتے کب ہیں
bimaar huun magar na davaa chaahiye mujhe
بیمار ہوں مگر نہ دوا چاہیے مجھے عاشق ہوں عاشقوں کی دعا چاہیے مجھے اپنے چمن کو خود ہرا کر لوں گا میں سنو ساون نہ چاہیے نہ گھٹا چاہیے مجھے چاہت گناہ ہے تو گنہ گار بھی ہوں میں میرے گناہ کی بھی سزا چاہیے مجھے پرواز کا ہے حوصلہ پرواز دیکھنا اب پنکھ چاہیے نہ ہوا چاہیے مجھے دنیا کے ساتھ کی بھی ضرورت نہیں رہی بس ساتھ مجھ کو میرا خدا چاہیے مجھے صحبت نے آپ کی مجھے عالم بنا دیا صحبت کا ہاتھ سر پہ سدا چاہیے مجھے حسرت دھرمؔ کی ایک ہے پوری اگر کرو تم سے تمام عمر وفا چاہیے مجھے
ik aap ke sivaa koi ham-navaa nahin hai
اک آپ کے سوا کوئی ہم نوا نہیں ہے دور جہاں میں کوئی اب آپ سا نہیں ہے چہرے پہ داغ ہیں گر سارے دکھائی دیں گے کیا سوچا اس جہاں میں اب آئنہ نہیں ہے جانا ہے آسماں پر نیکی کو ساتھ رکھو کہ دوسرا یہاں کوئی راستہ نہیں ہے ساقی مجھے فقط اب تیرا ہی آسرا ہے میں رند ہوں مرا اب کوئی سگا نہیں ہے اس کو جہاں سے چاہت کیسے ملے گی بولو جس کو کسی کے غم سے کوئی واسطہ نہیں ہے اپنی طرح دھرمؔ تم سمجھو نہ ہر کسی کو اندھے کو لگ رہا کوئی دیکھتا نہیں ہے
apnaa kahte hain magar apnaa banaate kab hain
اپنا کہتے ہیں مگر اپنا بناتے کب ہیں وعدہ کرتے ہیں مگر لوگ نبھاتے کب ہیں یار تو آس نہ کر اس کے پلٹ آنے کی جو چلے جاتے ہیں وہ لوٹ کے آتے کب ہیں ہم کو کرنا ہے سفر ان کی گلی کا لیکن دیکھنا ہے کہ وہ ہم کو بھی بلاتے کب ہیں مشورے دیتے سبھی لوگ جہاں کے پر وہ ساتھ دینے کے لیے ہاتھ بڑھاتے کب ہیں کوئی اس کو بھی ذرا یہ تو بتائے جا کر پیار کرتے ہیں جسے اس کو بھلاتے کب ہیں اب دھرمؔ کی تو دعا میں بھی اثر ہو کیسے ہم عبادت کے لیے ہاتھ اٹھاتے کب ہیں
yaadon pe koi pahra lagaayaa nahin gayaa
یادوں پہ کوئی پہرہ لگایا نہیں گیا بچھڑا مگر وہ یار بھلایا نہیں گیا اشکوں نے کہہ دیا تھا مگر ہونٹ چپ رہے آنکھوں سے کوئی راز چھپایا نہیں گیا پوچھا کسی نے یار محبت میں کیا ہوا سچ سچ کسی کو یار بتایا نہیں گیا کیسے اجڑ گیا تھا بغیچہ بہار میں قصہ کسی کو یار سنایا نہیں گیا ساگر کی ریت پر ہی بنایا ہوا محل ہاتھوں سے اپنے یار مٹایا نہیں گیا دنیا کے سارے لوگ رلاتے رہے ہمیں ہم سے کسی کا دل بھی دکھایا نہیں گیا کیسے دلوں کے زخم دکھاتے ہم آپ کو ہم نے سنا دیا ہے دکھایا نہیں گیا اس نے بھی منہ کو پھیر لیا آپ سے دھرمؔ ہم سے بھی ہاتھ یار ملایا نہیں گیا





