Dharmendr Nath
Dharmendr Nath
Dharmendr Nath
Ghazalغزل
بندگی میں آئے جب وہم و گماں کے فاصلے بڑھ گئے کتنے جبین و آستاں کے فاصلے ہو اگر احساس تو وہ ہے رگ جاں کے قریب سوچیے تو ہیں زمین و آسماں کے فاصلے رزق کا ضامن تو ہے پروردگار کائنات جان لیوا کیوں ہیں پھر دست و دہاں کے فاصلے کب کہیں کس سے کہیں کیسے کہیں کیا کیا کہیں حال دل کہنے میں حائل ہیں زباں کے فاصلے عزم محکم ہو تو منزل ہو ہی جاتی ہے نصیب راہ کی دشواریاں کیسی کہاں کے فاصلے محو ہو جائے انا الحق کی صدا میں جب وجود ختم ہو جاتے ہیں ناقوس و اذاں کے فاصلے زندگی کی راہ میں درپیش ہیں دشواریاں این و آں کے پیچ و خم سود و زیاں کے فاصلے
bandagi mein aae jab vahm-o-gumaan ke faasle
2 views
شعور عشق ہے تو بے نیاز و بے گماں ہو جا شعار عشق یہ ہے آپ اپنا راز داں ہو جا اگر ہے آرزوئے رفعت فکر و نظر دل میں بہ فیض خاکساری تو زمیں پر آسماں ہو جا تو ہی ہے مرکز ہستی تو ہی ہے مخزن ہستی نظر سے پردۂ غفلت اٹھا دے جاوداں ہو جا اگر ہے جذب دل صادق خموشی خود ہی بولے گی نہ لے احساں زباں کا خود ہی سر تا پا زباں ہو جا تری ہستی ہی کیا ہے گونج ہے یہ ساز فطرت کی ہم آہنگ صدائے ساز ہو کر نغمہ خواں ہو جا جہان آب و گل میں ہے بظاہر جلوۂ کثرت یہ وحدت کا تماشا ہے تو اس کا رازداں ہو جا غلام رنگ و بو بن کر نہ جی تو صحن گلشن میں عقیدت کے گلستاں کی بہار بے خزاں ہو جا سخن گوئی برائے داد ہے اک سعئ لا حاصل محبت کی زباں ہی لکھ دلوں کا ترجماں ہو جا
shu'ur-e-'ishq hai to be-niyaaz-o-be-gumaan ho jaa
2 views
غم ہوں کتنے ہی مگر لب پہ تبسم رکھیے زندگی خود ہے غزل اس میں ترنم رکھیے حال دل خود ہی کہا جائے تو کیا بات رہی رہ کے خاموش بھی انداز تکلم رکھیے بزم حیرت ہے جہاں دیکھیے رونق اس کی مثل آئینہ مگر چہرے کو گم صم رکھیے بزم رنداں میں بھی آداب رہیں پیش نظر سامنے شوق سے پھر جام ہی کیا خم رکھیے فکر و احساس کی دوری سے بکھرتا ہے وجود قلب اور ذہن میں کیوں کوئی تصادم رکھیے زندگی کاوش پیہم کے سوا کچھ بھی نہیں ہو کے غرقاب بھی موجوں میں تلاطم رکھیے کیجئے دشت نوردی تو عبادت کی طرح خاک پیما ہیں تو احساس تیمم رکھیے رخ پہ ابھرے نہ شکن موج حوادث سے کبھی دل کی گہرائی میں بھی وسعت قلزم رکھیے ٹوٹے جب شیشۂ دل آئے نہ باہر آواز گونج میں نغمۂ محفل کی اسے غم رکھیے
gham hon kitne hi magar lab pe tabassum rakhiye
2 views
رات ہے رقص کناں ایک غزل ہو جائے اے مری طبع رواں ایک غزل ہو جائے نبض کونین دھڑکتی ہے ہر اک ذرے میں وجد میں ہیں دل و جاں ایک غزل ہو جائے جلوۂ یار سے معمور ہے عالم کی فضا خوبصورت ہے سماں ایک غزل ہو جائے کتنی یادیں ہیں جو تنہائی میں لو دینے لگیں اے مرے سوز نہاں ایک غزل ہو جائے بربط دل پہ ہے مضراب زماں نغمہ فشاں درد ہوتا ہے جواں ایک غزل ہو جائے بخشئے جذب محبت کو سخن کا پیکر حال دل یوں ہو بیاں ایک غزل ہو جائے جنبش لب سے ہی اظہار تمنا کیوں ہو خامہ بن جائے زباں ایک غزل ہو جائے پھر تقاضہ ہے سر بزم غزل پیش کروں خاطر لالہ رخاں ایک غزل ہو جائے شورش وقت نے احساس کو مجروح کیا لمحہ لمحہ ہے گراں ایک غزل ہو جائے تو شناسائے حقیقت ہے تو انداز بدل تا بہ کے وہم و گماں ایک غزل ہو جائے کیف ناقوس و اذاں بول اٹھے لفظوں میں ورد حق ہو بزباں ایک غزل ہو جائے
raat hai raqs-kunaan ek ghazal ho jaae
2 views
چمن سجا نہ سکے گل ہی کچھ کھلا تو چلے ہمارے بعد بہاروں کا سلسلہ تو چلے گلہ نہیں کہ ہمیں جام مے ملا نہ ملا تجھے ہم اپنا لہو زندگی پلا تو چلے کوئی تو خاک بسر ڈھائے گا یہ قصر ستم جفا و جور کی بنیاد ہم ہلا تو چلے مجھے یقیں ہے نئی صبح جلد آئے گی ستارہ ہائے شب یاس جھلملا تو چلے جو بے زباں تھے انہیں بخش دی ہے گویائی بجھے دلوں کو نیا حوصلہ دلا تو چلے سیاہ بختوں کو ہم نے پیام صبح دیا غرور تیرہ شبی خاک میں ملا تو چلے خموش رہنے سے ہوتی ہے ظلم کی تائید نہیں کچھ اور تو ظلمت کا ہی گلہ تو چلے
chaman sajaa na sake gul hi kuchh khilaa to chale
1 views
مانا ابھی نشان نمود سحر نہیں میں تیرگیٔ شب کا مگر نوحہ گر نہیں کہتا ہے کون حسن ازل جلوہ گر نہیں جلوے تو ہر طرف ہیں شعور نظر نہیں احساس و فکر اس لیے اب ہیں بجھے بجھے روشن ستون دار پہ کوئی بھی سر نہیں اس دور کے بشر کا مقدر ہے گمرہی ہے عقل خام کار جنوں معتبر نہیں جینے کا ہو شعار تو اک لمحہ بھی بہت ہے مختصر حیات مگر مختصر نہیں جس کو بھی دیکھیے وہ حصار انا میں قید اتنا بڑھی خودی کہ خدا کی خبر نہیں معراج ہوش یہ ہے کہ اپنی خبر نہ ہو ہے باخبر وہی جسے اپنی خبر نہیں کشکول دل ہے دولت ایماں سے مالا مال شکر خدا ہے پاس مرے سیم و زر نہیں توقیر جو ملی وہ بزرگوں کا فیض ہے ویسے تو اپنی ذات میں کوئی ہنر نہیں
maanaa abhi nishaan-e-numud-e-sahar nahin
1 views





