SHAWORDS
D

Dharmraj Deshraj

Dharmraj Deshraj

Dharmraj Deshraj

poet
17Ghazal

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

jaane kis kis ko khaa gai miTTi

جانے کس کس کو کھا گئی مٹی زیست کیا ہے بتا گئی مٹی جو جہاں کو بتا چکے اپنا ان کو اپنا بنا گئی مٹی جن کا دنیا میں نام چلتا تھا ان کی ہستی مٹا گئی مٹی چار کاندھے پہ جب گیا کوئی نیند میں تھا جگا گئی مٹی پاس سب کچھ تھا اب نہیں کچھ بھی آئنہ جب دکھا گئی مٹی عام انسان کی کہاں گنتی آسمانوں کو کھا گئی مٹی دوست دشمن سبھی کو غم اس کا جس کو دولہا بنا گئی مٹی

غزل · Ghazal

dard-o-gham aur muflisi achchhi nahin

درد و غم اور مفلسی اچھی نہیں وقت کی یہ دل لگی اچھی نہیں پھول بن کر وہ چمن مہکائے گی شاخ سے ٹوٹی کلی اچھی نہیں قیمتی سانسوں کو مقصد دیجیے بے سبب سی زندگی اچھی نہیں آنکھ سے آنسو چھلک جاتے یہاں حد سے زیادہ بھی ہنسی اچھی نہیں دھڑکنیں بڑھتی ہیں ان کو دیکھ کر دل سے دل کی مخبری اچھی نہیں آدمی بن کر رہو دو چار دن سو برس کی زندگی اچھی نہیں لوگ کہتے آدمی تو ٹھیک ہے پر دھرمؔ کی شاعری اچھی نہیں

غزل · Ghazal

dil mein un ki aarzu hone lagi

دل میں ان کی آرزو ہونے لگی آئینے سے گفتگو ہونے لگی ہم نے کیول پھول کا بوسہ لیا جانے کیوں وہ سرخ رو ہونے لگی زخم کچھ کچھ بھر چلے یا یوں کہیں زندگی پھر سے شروع ہونے لگی اب تو ہم کو اشک پینا آ گیا بات یہ سب کو بہ کو ہونے لگی صرف اپنے آپ میں ہی گم ہوا اور میری جستجو ہونے لگی چاہتا ہوں میں اسے اور وہ مجھے اب یہ چرچا رو برو ہونے لگی صرف ان کی بات محفل میں چلی ان کی خوشبو چار سو ہونے لگی

غزل · Ghazal

chaand ki jab se zarurat ho gai

چاند کی جب سے ضرورت ہو گئی زندگی تب سے مصیبت ہو گئی ہچکیاں آنے کا ہے شاید سبب ان کی دل پر بھی حکومت ہو گئی ان کی آنکھیں نم ہیں میرے واسطے میرے زخموں کی بھی عزت ہو گئی درد و غم بڑھتے گئے کچھ اس طرح دل پہ ان کی بادشاہت ہو گئی بک رہا ایمان بھی اس شہر میں گم یقیناً ہی شرافت ہو گئی جب سے رشتہ خون کے بکھرے میرے دل کے زخموں میں بھی برکت ہو گئی چار چھ غزلیں دھرمؔ نے کیا کہیں یہ مرے رب کی عنایت ہو گئی

غزل · Ghazal

sochtaa huun ki bhulaa duun us ko

سوچتا ہوں کہ بھلا دوں اس کو بے بسی اپنی بتا دوں اس کو یار کے لب پہ تبسم رکھ کے اشک پینے کی سزا دوں اس کو اپنی حسرت کا جنازہ لے کر جا رہا ہوں یہ بتا دوں اس کو اپنے حصہ کی خوشی بھی دے کر غم اٹھانے کی سزا دوں اس کو دین و ایماں کے لٹیرے ہیں بہت سوچتا ہوں کہ جگا دوں اس کو میرے رونے پہ خوشی ملتی ہے کیوں نہ پھر آج ہنسا دوں اس کو وہ دھرمؔ مجھ کو برا کہتا ہے آئنہ کیوں نہ دکھا دوں اس کو

غزل · Ghazal

dard tum ne diyaa vo thoDaa thaa

درد تم نے دیا وہ تھوڑا تھا رات ہم نے حساب جوڑا تھا آج بھی اس جگہ کھڑا ہوں میں تم نے جیسا جہاں پہ چھوڑا تھا چاند بادل میں چھپ گیا میرا حسرتیں ساتھ لے کے دوڑا تھا آسماں خاک میں ملا دیکھا موت نے ہر غرور توڑا تھا نقش پا کہہ رہے کہاں منزل کون ہے ریت پر جو دوڑا تھا آنسوؤں سے وہ تربتر نکلا ماں کا آنچل ذرا نچوڑا تھا راہ روکے کھڑا رہا ایماں میری منزل میں یہ ہی روڑا تھا

Similar Poets