
Dharvendra Singh Bedar
Dharvendra Singh Bedar
Dharvendra Singh Bedar
Ghazalغزل
badan dhuup mein tap ke kaale hue hain
بدن دھوپ میں تپ کے کالے ہوئے ہیں میسر تبھی دو نوالے ہوئے ہیں اندھیروں سے کہہ دو ادھر سے نہ گزریں بڑی مشکلوں سے اجالے ہوئے ہیں خوشی نے مرا ساتھ چھوڑا ہے جب سے مرے غم ہی مجھ کو سنبھالے ہوئے ہیں سوا ڈوبنے کے نہیں عشق میں کچھ یہ دریا ہمارے کھنگالے ہوئے ہیں سفر زندگی کا یہ طے ہم کریں گے بھلے پاؤں میں لاکھ چھالے ہوئے ہیں یہ الفت محبت حسینوں کی صحبت عجب شوق دنیا نے پالے ہوئے ہیں
tumhaare naam ke charche bahut hain
تمہارے نام کے چرچے بہت ہیں ہمارے کام کے چرچے بہت ہیں محبت کی کوئی بھی داستاں ہو دل ناکام کے چرچے بہت ہیں تمہارے ساتھ جو ہم نے گزاری صنم اس شام کے چرچے بہت ہیں ہمیں جو ساقیا تو نے پلایا یہاں اس جام کے چرچے بہت ہیں گلوں سے پیار دنیا کو نہیں پر گل و گلفام کے چرچے بہت ہیں اگرچہ کام ہے سب کی زباں پر مگر آرام کے چرچے بہت ہیں یہاں پر نامور کے تذکرے کم یہاں بدنام کے چرچے بہت ہیں میاں بیدارؔ کتنے میں بکے ہو تمہارے دام کے چرچے بہت ہیں
aaj ulfat ki puraani ik kahaani yaad aai
آج الفت کی پرانی اک کہانی یاد آئی شادمانی یاد آئی سر گرانی یاد آئی بھول بیٹھے تھے ہم اس کی اہمیت کافی دنوں سے موت سے پالا پڑا تو زندگانی یاد آئی زندگی کی راہ میں بے فکر چلتے جا رہے تھے حادثے ہونے لگے تو ساودھانی یاد آئی زندگی کو رات دن بہتے ہوئے دیکھا یہاں تو ساگروں کے پانیوں کو بھی روانی یاد آئی کامیابی ہاتھ سے میرے پھسلنے لگ گئی جب تب کہیں جا کر مجھے بھی جانفشانی یاد آئی
uDaanon ke hunar ko aazmaanaa chaahtaa hai
اڑانوں کے ہنر کو آزمانا چاہتا ہے پرندہ آسماں کے پار جانا چاہتا ہے مسرت ہر کوئی دل میں بسانا چاہتا ہے غم دل ہر کوئی اپنا بھلانا چاہتا ہے اگرچہ ذہن وعدہ توڑنا چاہے مگر دل وفا کا عہد دنیا سے نبھانا چاہتا ہے یہ کیسی ہوڑ اندھی دوڑ دنیا میں مچی ہے جسے دیکھو وہی دولت کمانا چاہتا ہے بنا کر ایٹمی ہتھیار لاکھوں جان لیوا وجود انسان اپنا خود مٹانا چاہتا ہے
hamein shak thaa hamaaraa qaatilon mein naam aaegaa
ہمیں شک تھا ہمارا قاتلوں میں نام آئے گا ہمارے سر وفا کے قتل کا الزام آئے گا تری نظریں ہیں مے خانہ پئیں گے ہم بھی پیمانہ تری نظروں سے الفت کا کبھی تو جام آئے گا چلے تھے ہم محبت کے سفر پر مدتوں پہلے خدا جانے کب اس آغاز کا انجام آئے گا ہمیں بزدل سمجھنے کی ذرا بھی بھول مت کرنا کسی دن سر ہمارا بھی وطن کے کام آئے گا
kyaa huaa jo par hamaare phans gae hain jaal mein
کیا ہوا جو پر ہمارے پھنس گئے ہیں جال میں ہم پرندے اڑ چکے ہیں پہلے بھی اس حال میں پر کتر ڈالے بھلے صیاد ڈینے نوچ لے آسماں کو ہم چھوئیں گے ایک دن ہر حال میں زندگی کے راستے ہوں لاکھ پیچ و خم بھرے زندگی الجھا نہ پائے گی ہمیں جنجال میں زندگی میں جیتنا ممکن نہ ہو بے شک مگر ہارنا سیکھا نہیں ہم نے کسی بھی حال میں ہوں نہ ہوں ہم کل یہاں بیدارؔ لیکن نیکیاں ان گنت ہوں گی ہمارے نامۂ اعمال میں





