SHAWORDS
Dheerendra Singh Faiyaz

Dheerendra Singh Faiyaz

Dheerendra Singh Faiyaz

Dheerendra Singh Faiyaz

poet
132Ghazal

Ghazalغزل

See all 132
غزل · Ghazal

یہ آسمان کہیں منہ چھپانے لگ جائے مرا جنون اگر خاک اڑانے لگ جائے اسی امید سے در در بھٹک رہا ہوں میں اسی لیے کہ مرا دل ٹھکانے لگ جائے رہوں گا چپ مرے دشمن اور اس طرح سے چپ مری خموشی بھی تجھ کو ڈرانے لگ جائے پھر اس کے بعد اجالے کی کیا امید کوئی دیا ہی لو اگر اپنی بجھانے لگ جائے اسے بتا دیں جو میعاد اپنے رونے کی ہمارا قرض شب غم چکانے لگ جائے ہمارے خواب کی اس کو بھنک نہیں ورنہ ہماری آنکھ کو دنیا ستانے لگ جائے یہ حال ہے کہ اگر جان کر بھٹک جاؤں مجھے تو اندھا بھی رستہ بتانے لگ جائے

ye aasmaan kahin munh chhupaane lag jaae

غزل · Ghazal

بنائے رکھتا ہے آنکھوں میں روشنی آنسو سو میرا خواب بھی آنسو ہے نیند بھی آنسو اگیں گے نیند کے پودے پہ کچھ نئے نئے خواب کرے گا آنکھ میں جب کیمیا گری آنسو بنا ہوا ہے ستارا ہماری آنکھوں کا ٹپکتا ہی نہیں آنکھوں سے آخری آنسو کبھی جو رونے کا جی ہو تو کھل کے رو لینا بنا کے رکھتا ہے لوگوں کو آدمی آنسو مرا خیال تصور یہی مجھے مضمون مری زبان بھی آنسو ہے شاعری آنسو نظر جھکا کے وہ کہتی تھی مجھ کو پتھر دل ملاتی آنکھ تو آنکھوں میں دیکھتی آنسو ہمارے رونے کو تم رنج کیوں سمجھتے ہو ہمارا رونا خوشی ہے شگفتگی آنسو

banaae rakhtaa hai aankhon mein raushni aansu

غزل · Ghazal

پھر سے اک بار اسے خود پہ ستم ڈھانے دوں یعنی وہ لوٹ کے آئے تو اسے آنے دوں نیند کے زخم کے بارے میں نہ سوچوں اتنا آنکھ اگر خواب سے گھبرائے تو گھبرانے دوں پیاس اتنی بھی نہیں ہے کہ میں روکوں تجھ کو دل بھرا بھی نہیں اتنا کہ تجھے جانے دوں ایک بس عشق کے بدلے میں دیا ہجر اس نے اتنی سی بات پہ کیا خاک اسے طعنے دوں تیرے ماتھے کی لکیروں کو مٹا دوں یکسر لا جبیں پاس ترے رنج کو میں شانے دوں لوگ یہ چاہتے ہیں بات نہ مانوں دل کی روح کھائے گی بدن اور بدن کھانے دوں تیری وحشت کے تئیں آنکھ مناسب ہے مری آ تجھے ایک نہیں بلکہ دو ویرانے دوں

phir se ik baar use khud pe sitam Dhaane duun

غزل · Ghazal

بنتے بنتے نہ بنا ایک بھی چہرہ لیکن حافظے میں تھا کوئی چاک پہ رکھا لیکن وہ بہت بعد بہت بعد میں بچھڑا لیکن درمیاں کب سے تھی ہم دونوں کے دنیا لیکن تو مرا کیا ہے کوئی پوچھے تو کہہ دوں گا اسے مختلف جسم مری ذات کا حصہ لیکن بھیڑ کہتی تھی کہ تنہائی میں مر جائے گا ہائے افسوس مجھے بھیڑ نے مارا لیکن لب لرزاں سے مرے لفظ نہ اترا کوئی میری آنکھوں نے بہت شور مچایا لیکن میں تجھے عشق تو قوت سے پرے کرتا تھا میرے حصے میں ترا ہجر ہی آیا لیکن

bante bante na banaa ek bhi chehra lekin

غزل · Ghazal

خود سے تنگ آ کے میں ہو جاؤں دوانہ تو پھر ایک ہی کام کروں شور مچانا تو پھر دل وحشی نے اگر ناچنے گانے نہ دیا پاؤں سے ہو نہ سکا خاک اڑانا تو پھر میں زمانے سے کہیں آگے چلا آیا ہوں پھر بھی لگتا ہو کہ پیچھے ہے زمانہ تو پھر سوچتا ہوں کہ مجھے نیند نہ آئے تب کیا خواب نے چھوڑ دیا آنکھ میں آنہ تو پھر کیا کیا جائے اگر آنکھ نہ رونا سیکھے دل کو آئے نہ اگر آگ بجھانا تو پھر آ گیا ہم کو بھی الفاظ برتنے کا ہنر آ گیا ہم کو اگر شعر بنانا تو پھر سیکھ لیں ہم بھی خیالوں سے فصیلیں چننا لفظ کی اینٹ سے دیوار اٹھانا تو پھر

khud se tang aa ke main ho jaaun divaana to phir

غزل · Ghazal

میں اپنے ساتھ ہی در در پھروں تو کیا ہو گا اور اس کے بعد نہ آیا سکوں تو کیا ہو گا میں نیند اپنی دوبارا بنوں تو کیا ہو گا پھر اس پہ خواب کے کنکر چنوں تو کیا ہو گا تو آنسوؤں کو ترا دکھ بیان کرنے دے میں تیرے دکھ پہ غزل کہہ بھی دوں تو کیا ہو گا جب آنکھ ہی کو نہ پڑھنے کا حوصلہ ہو مجھے میں تیرے سینے کی دھڑکن سنوں تو کیا ہو گا ترے اکیلے کے جلنے سے بجھ گیا سب کچھ میں تیرے جلنے کے باہم جلوں تو کیا ہو گا میں چاہتا ہوں سمندر سے ہو جدا صحرا میں تیری آنکھ کا آنسو بنوں تو کیا ہو گا اس آسماں پہ بھی ہیں آسمان اور کئی میں کوئی جھوٹ بھی تجھ سے کہوں تو کیا ہو گا

main apne saath hi dar-dar phirun to kyaa hogaa

Similar Poets