
Dil Sikandarpuri
Dil Sikandarpuri
Dil Sikandarpuri
Ghazalغزل
ruuTh sakti ho miri jaan laDaai to nahin
روٹھ سکتی ہو مری جان لڑائی تو نہیں میں نے کنگن ترا مانگا ہے کلائی تو نہیں آنکھ بھر آئی ترا دیکھ کے ہنستا چہرہ یہ محبت کی مری پہلی کمائی تو نہیں قید خانے میں ہے کیوں آج صداۓ ماتم میرے صیاد مری آج رہائی تو نہیں تیرے ہر جرم پہ سب ڈال رہے ہیں پردہ حاکم وقت تلک تیری رسائی تو نہیں میری خوشیوں کا محل ٹوٹ کے گرتا کیوں ہے اے مرے یار تری آج سگائی تو نہیں رات بھر نیند مجھے آج نہیں آئی ہے تم نے تصویر مری پھر سے چھپائی تو نہیں اتنی شہنائیاں کیوں گونج رہی ہیں مجھ میں دل کی دہلیز سے پھر کوئی وداعی تو نہیں کیوں ہوا ہم کو سمجھنے لگی دشمن اے دل ہم دیے بیچتے پھرتے ہیں سلائی تو نہیں
ham se to koi dost banaae nahin jaate
ہم سے تو کوئی دوست بنائے نہیں جاتے کھوٹے کبھی سکے تو چلائے نہیں جاتے پتھر سے کبھی دل نہ لگا لینا کہ پتھر شیشے کے مکانوں میں سجائے نہیں جاتے اس نے مجھے یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا تھا پتھر پہ کبھی پھول کھلائے نہیں جاتے غزلوں کے پرستار کو تم غزلیں دکھاؤ اندھوں کو یہ آئینے دکھائے نہیں جاتے کچھ لوگ تو سورج بھی چھپانے میں لگے ہیں ہم سے تو دیے کوئی بجھائے نہیں جاتے کب راز محبت وہ چھپا پائیں گے دل میں خط جن سے کتابوں میں چھپائے نہیں جاتے کرتے ہیں جہازوں کو اڑانے کے وہ دعوے جن سے یہ پرندے بھی اڑائے نہیں جاتے ہر راز بتا سکتے ہیں دنیا کو مگر دلؔ کچھ راز ہیں ایسے جو بتائے نہیں جاتے
apne ashkon ke khuraafaat se Dar lagne lagaa
اپنے اشکوں کے خرافات سے ڈر لگنے لگا جسم مٹی کا ہے برسات سے ڈر لگنے لگا روشنی کی کوئی امید نہ ہم سے رکھیے ہم وہ جگنو ہیں جنہیں رات سے ڈر لگنے لگا اپنے ہونٹوں کے تبسم کو کہاں دفناؤں ان سسکتے ہوئے لمحات سے ڈر لگنے لگا قیس صاحب کا پڑھا جب سے فسانہ میں نے عشق کی مجھ کو حوالات سے ڈر لگنے لگا ہوش کھو بیٹھی ہے جذبات میں آ کر دنیا دل کے اٹھتے ہوئے جذبات سے ڈر لگنے لگا
zahr huun shahd koi ghol rahaa hai mujh mein
زہر ہوں شہد کوئی گھول رہا ہے مجھ میں کون ہے تیری طرح بول رہا ہے مجھ میں اب محبت نہ کروں گا یہ قسم کھائی تھی بند دروازہ کوئی کھول رہا ہے مجھ میں خود کو اپنے ہی میں قدموں پہ جھکا لیتا ہوں ایک ہی فن ہے جو انمول رہا ہے مجھ میں اپنی جنت میں بنا کر کے مٹا دیتا تھا مدتوں تک کوئی بہلول رہا ہے مجھ میں میرے سینہ میں یہ دل ہے کہ کوئی سوداگر میرے احساس کا دھن تول رہا ہے مجھ میں
bhar gai firqa-paraston se ye duniyaa kaise
بھر گئی فرقہ پرستوں سے یہ دنیا کیسے رام رحمان میں ہونے لگا جھگڑا کیسے ہیر پر کچھ نہیں تیشے پہ سوال اٹھے گا عشق میں مر گیا رانجھا کوئی پیاسا کیسے میرے بھائی نے جلا ڈالا ہے اب کے مجھ کو چاہ کنعاں سے مرا نکلے گا کپڑا کیسے خود سے اک عمر لگی رشتہ بنانے میں مجھے لوگ انجانوں سے کر لیتے ہیں رشتہ کیسے ہم نے کشتی کو سمندر میں اتارا ہی نہیں ہم کو طوفاں میں نظر آئے جزیرہ کیسے ذمہ داری کا کوئی بوجھ اٹھایا بھی نہیں وقت سے پہلے ہی ہونے لگا بوڑھا کیسے عمر بھر میں نے گلابوں کی تجارت کی ہے پڑ گیا ہے یہ مرے ہاتھ میں چھالا کیسے اک پیمبر کی طرف دار ہے مانا بستی بت یہاں بکتا ہے آذر کا تراشا کیسے ہر قدم پر یہ سنبھالے ہے انا کو میری پھاڑ کر پھینک دوں غربت کا لبادہ کیسے زہر غم ہم نے زمانے کا پیا ہے برسوں تن بدن آپ کا ہونے لگا نیلا کیسے
qaid kartaa hai na aazaad baDi uljhan hai
قید کرتا ہے نہ آزاد بڑی الجھن ہے چاہتا کیا ہے تو صیاد بڑی الجھن ہے اپنی آنکھوں کو میں کس نیزے پہ رکھ دوں جا کر ریت پر رکھنی ہے بنیاد بڑی الجھن ہے اپنی غزلوں کا بدن کس کے حوالے کر دوں سب میں موجود ہیں نقاد بڑی الجھن ہے دل کی تعمیر ادھوری ہے کئی صدیوں سے کوئی کرتا نہیں امداد بڑی الجھن ہے جسم کا بوجھ زمینوں میں نہ رکھ پاؤ گے لوگ پہلے سے ہیں آباد بڑی الجھن ہے پھر سے آثار قیامت کے بنے ہیں مجھ میں پھر سے تم آنے لگے یاد بڑی الجھن ہے کھینچ لایا ہے مجھے عشق عجب منزل پر لکھی جاتی نہیں روداد بڑی الجھن ہے غم ٹھہرتے ہیں یہاں دل ہے مسافر خانہ دل کو تم کہتے ہو دلؔ شاد بڑی الجھن ہے





