Dilnawaz Khan Dilnawaz
Dilnawaz Khan Dilnawaz
Dilnawaz Khan Dilnawaz
Ghazalغزل
یہ کیسے درد نے قصہ کا اختتام کیا مجھے مٹانے کا اک ذوق ناتمام کیا وہ سبزہ سوکھا وہ پیڑوں سے گر پڑے پتے ہماری موت کا کس کس نے احترام کیا اٹھا جنازہ تو آنسو بہا کے بادل نے وضو کا کتنا یہ بر وقت انتظام کیا بہشت اور جہنم کے درمیاں رکھا مرے گناہوں نے اتنا تو ایک کام کیا ہے دل نوازؔ یہ دنیا کا ایک کھیل نیا کسی نے لوٹا ہمیں اور کسی کا نام کیا
ye kaise dard ne qisse kaa ikhtitaam kiyaa
گرائیں دل کے نشیمن پہ بجلیاں اس نے امید و پیار کی بھڑکا دیں بستیاں اس نے مرے خلوص سے پائیں یہ شوخیاں اس نے خوشی کے پاؤں کو دیں غم کی بیڑیاں اس نے غم حیات کی دیکھی نہ جھلکیاں اس نے سہم سہم کے بظاہر لیں سسکیاں اس نے سنی بغور جوں ہی دل پہ بیتیاں اس نے اٹھائی میرے ارادوں کی ارتھیاں اس نے مرے وقار کا پیدا یہاں سوال ہوا مری طرف جو اٹھائی ہیں انگلیاں اس نے اڑا کے بند جو کی دست ناز سے کھڑکی بنائیں ایسے مرے خط کی تتلیاں اس نے وفا کے بعد بھی اے دل نوازؔ حیرت ہے اڑا دیں رہ کے مرے دل کی دھجیاں اس نے
giraain dil ke nasheman pe bijliyaan us ne
اشک آنکھوں سے ڈھلتے دیکھا ہے زندگی کو مچلتے دیکھا ہے گردش وقت کب رکی لیکن اس کو پہلو بدلتے دیکھا ہے دم پہ ان کے کرم کی یورش میں کس نے دم کو نکلتے دیکھا ہے آس کی جوت دل کی گرمی میں سارے احساس پلتے دیکھا ہے جن کو دنیا کی ہر خوشی ہے ملی ہاتھ ان کو بھی ملتے دیکھا ہے بند آنکھوں میں تیرا حسن خیال تجھ کو ہر سمت چلتے دیکھا ہے دل نوازؔ آتش طلب ہی تو تھی جس میں تم کو بھی جلتے دیکھا ہے
ashk aankhon se Dhalte dekhaa hai
اب ترے غم کے اندھیروں میں اتر جاؤں گا خود ہی بن کے میں وہاں شمس و قمر جاؤں گا اک نظر پیار سے دیکھو تو نوازش ہوگی پھر نہ آؤں گا کبھی ایسے نگر جاؤں گا پھر سے بے ساختہ ہچکی جو مجھے آئے گی نام تیرا ہی سدا لوں گا جدھر جاؤں گا مل گئی تیرے خیالوں سے تجلی دل کو تلخ راہوں پہ بھی بے خوف و خطر جاؤں گا ہر ڈگر ٹیڑھی ہے ترچھی ہے زمانہ بے دل ضد ہے مجھ کو کہ تجھے ڈھونڈ کے گھر جاؤں گا میری ہستی نہیں اخبار کہ ہر کوئی پڑھے میں رسالہ ہوں سر اہل نظر جاؤں گا دل نوازؔ آج تلک کیوں مجھے منزل نہ ملی کیا یوں ہی عمر کی راہوں سے گزر جاؤں گا
ab tire gham ke andheron mein utar jaaungaa





