SHAWORDS
Dinesh Kumar Drouna

Dinesh Kumar Drouna

Dinesh Kumar Drouna

Dinesh Kumar Drouna

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

kabhi kabhi hi vo mujh se nahin jhagaDtaa hai

کبھی کبھی ہی وہ مجھ سے نہیں جھگڑتا ہے وگرنہ دیکھتا ہے اور ٹوٹ پڑتا ہے مری نظر سے تو ہے دور وہ بہت لیکن مرے خیال کے ہاں آس پاس پڑتا ہے ہرا بھرا تو بہت تھا وہ بانس کا جنگل کسے پتا تھا مگر آگ بھی پکڑتا ہے یقین اس کی رفاقت کا کر رہا ہوں میں کہ جس کا کام میرے دشمنوں سے پڑتا ہے یہیں پہ ربط میں آتا ہے ایک دوراہا یہیں پہ آ کے مرا رابطہ بگڑتا ہے میں ایسی جنگ میں ہوں ایک ایسی جنگ جہاں مرا خلوص ہی میرے خلاف لڑتا ہے

غزل · Ghazal

ruvaansi shaam hai baaqi abhi to rat-jage honge

رواںسی شام ہے باقی ابھی تو رت جگے ہوں گے انہیں کھونے سے پہلے جانے کتنے وسوسے ہوں گے وہ کہتے تھے نہیں جی پائیں گے ہو کر جدا تم سے میں اکثر سوچتا ہوں کیا وہ سچ مچ مر گئے ہوں گے ہمارے ٹوٹنے میں آپ کا کچھ بھی نہیں مانا ہمیں شیشہ رہے ہوں گے ہمیں پتھر رہے ہوں گے میں ان کی یاد میں دن بھر یہی سب فرض کرتا ہوں ابھی یہ کر رہے ہوں گے ابھی وہ کر رہے ہوں گے یہ لگ بھگ غیر ممکن ہے سبھی کو مطمئن رکھنا وہ جو سب کی نظر میں ہیں بھلے وہ کیا بھلے ہوں گے ہمارے ذہن سے پریوں کے قصے کیوں نہیں جاتے بڑے تو ہیں مگر کیا ہم کبھی سچ مچ بڑے ہوں گے پڑا رہنے دو اپنے حال پر ہم کو مسیحاؤں کہ سوکھے زرد پتے بارشوں سے کیا ہرے ہوں گے

غزل · Ghazal

aaine ke us taraf se is taraf aate hue

آئنے کے اس طرف سے اس طرف آتے ہوئے عمر گزری ہے خودی کو خود سے ملواتے ہوئے یوں سمجھ لیجے ہماری عشق میں بے چارگی ڈوب جانا تھا ہمیں تیراکیاں آتے ہوئے جانے اس شب کیا ہوا تھا میری عقل و ہوش کو خود بہکنے لگ گیا تھا اس کو سمجھاتے ہوئے بے سبب کچھ بھی نہیں تھا بے سبب تنقید بھی وہ مٹائے جا رہا تھا نقش پا جاتے ہوئے آپ کے پیچھے گزاری زندگی مت پوچھئے کاٹنی تھی کاٹ لی روتے ہوئے گاتے ہوئے اب نہ لیجے نام اس کا دل کہ جس کی ضد کئے سو گیا ہے تھک تھکا کر روتے چلاتے ہوئے

غزل · Ghazal

ye tark-e-rabt to fardaa pe Taal rakhnaa thaa

یہ ترک ربط تو فردا پہ ٹال رکھنا تھا کسی بھی حال میں رشتہ بحال رکھنا تھا دلوں کی تلخیاں سڑکوں پہ کھینچ لایا تو پرانے ربط کا کچھ تو خیال رکھنا تھا یہ اس کی سوچ ہے اپنی وفا کرے نہ کرے تمہیں تو اپنا کلیجہ نکال رکھنا تھا یوں گفتگو کا کوئی سلسلہ بڑھانے کو ہمیں جواب میں پھر سے سوال رکھنا تھا مرے خیال کی جنبش بھی بھانپنے والے تمہارا نام تو ہم کو غزال رکھنا تھا میں اٹھا اور ترے پاس کوئی بیٹھ گیا مری یہ بھول تھی مجھ کو رومال رکھنا تھا

غزل · Ghazal

bahaana kar liyaa phir se hayaa kaa

بہانہ کر لیا پھر سے حیا کا کریں کیا آپ کی ظالم ادا کا عبادت کر رہیں ہیں وہ کہ یعنی خدا بھی نام لیتے ہیں خدا کا ہماری کشتیاں ہیں بادبانی ہمیں کرنا پڑے گا کچھ ہوا کا شریک جرم ہے منصف اگر تو ہمیں ڈر ہی نہیں کوئی سزا کا انہیں نے موت پھیلائی تھی پہلے جنہیں بیوپار کرنا تھا دوا کا بلا ہے وہ بلا ہاں ٹھیک ہے پر کوئی تو توڑ ہوگا اس بلا کا ہمارا حشر بھی سنجیدگی سے بہانہ ڈھونڈھتا ہے ابتدا کا سخنور بے وفا ہو لازمی ہے تعلق شاعری سے کیا وفا کا

غزل · Ghazal

safar ko phir vahin le jaa rahe hain

سفر کو پھر وہیں لے جا رہے ہیں خطوط ان کے انہیں لوٹا رہے ہیں ہماری موت کے کیا فائدے ہیں ہم اپنے آپ کو سمجھا رہے ہیں کہاں کے راہبر کیسی مسافت ہمیں یہ لوگ بس ٹہلا رہے ہیں غزل شعر و سخن کچھ بھی نہیں بس ہم اپنے آپ سے بتلا رہے ہیں ذرا سی بات ہے کیسا تماشہ انہیں جانا تھا اور وہ جا رہے ہیں ستم یہ ہے کہ جس کو چھوڑنا ہے اسی کو ساتھ میں لے جا رہے ہیں یہ کہہ کر جو بھی چاہو گے وہ ہوگا وہ اپنی بات ہی منوا رہے ہیں وہ جو رہتے ہیں اک دریا کنارے وہ ہم کو تشنگی سمجھا رہے ہیں اجالوں کے لیے کھولی تھی کھڑکی مگر گھر سے اندھیرے جا رہے ہیں

Similar Poets