Dinesh Thakur
Dinesh Thakur
Dinesh Thakur
Ghazalغزل
sabr ke dariyaa mein jab aa jaaegaa
صبر کے دریا میں جب آ جائے گا دل غموں سے خود ابھرتا جائے گا ہم ہوئے برباد گر تو دیکھنا کچھ سبب تم سے بھی پوچھا جائے گا حشر کے دن بھی ہماری روح کو آپ کے کوچے میں ڈھونڈا جائے گا توڑ دے گا سب حدوں کو ایک دن بہتے پانی کو جو روکا جائے گا آج کے پل کیوں بگاڑیں فکر میں کل جو ہوگا کل ہی سوچا جائے گا
gham hamaaraa gulaab ho jaae
غم ہمارا گلاب ہو جائے زندگی لا جواب ہو جائے یاد نے حرف حرف گھیرا ہے گر لکھوں تو کتاب ہو جائے دشمنوں کی طرف بھی جائیں گے دوستوں سے حساب ہو جائے امتحاں لے نہ بے قراری کا میرے خط کا جواب ہو جائے آپ ناحق خدا سے ڈرتے ہیں شیخ صاحب شراب ہو جائے تیرے کوچہ میں آ کے لگتا ہے جیسے مفلس نواب ہو جائے خود پرستی انا ہی کافی ہے رخ ذرا بے نقاب ہو جائے میں نے دیکھا کہ تو ہے پہلو میں اب مجسم یہ خواب ہو جائے
aaine se kab talak tum apnaa dil bahlaaoge
آئنے سے کب تلک تم اپنا دل بہلاؤ گے چھائیں گے جب جب اندھیرے خود کو تنہا پاؤ گے آرزو ارمان خواہش جستجو وعدے وفا دل لگا کر تم زمانہ بھر کے دھوکہ کھاؤ گے ہر حسیں منظر سے یارو فاصلہ قائم رکھو چاند گر دھرتی پہ اترا دیکھ کر ڈر جاؤ گے زندگی کے چند لمحہ خود کی خاطر بھی رکھو بھیڑ میں ہر دم رہے تو خود بھی گم ہو جاؤ گے اس گلی میں جا رہے ہو عشق ہے رسوا جہاں سوچ لو پھر سوچ لو پچھتاؤ گے پچھتاؤ گے
kabhi aansu kabhi khvaabon ke dhaare TuuT jaate hain
کبھی آنسو کبھی خوابوں کے دھارے ٹوٹ جاتے ہیں ذرا سی آنکھ میں کیا کیا نظارے ٹوٹ جاتے ہیں ہوا بھی آج کل رکھتی ہے تیور پتھروں جیسے یہاں تو سوچ سے پہلے اشارہ ٹوٹ جاتے ہیں ہمیں تنہائیوں میں یوں صدائیں کون دیتا ہے سمندر کانپ اٹھتا ہے کنارے ٹوٹ جاتے ہیں پس دیوار چھپ جاتے ہیں جو طوفان سے ڈر کر انہیں کی زندگی میں سب سہارے ٹوٹ جاتے ہیں جبیں پر کون سی تحریر لکھی ہے خدا جانے ہمارے پاس آ کر کیوں ستارہ ٹوٹ جاتے ہیں
kyaa kisi ki talab nahin hoti
کیا کسی کی طلب نہیں ہوتی شاعری بے سبب نہیں ہوتی جانے کس دھن میں بھاگے جاتے ہیں جستجو جی میں کب نہیں ہوتی با ادب دشمنی کو کیا روئیں دوستی با ادب نہیں ہوتی چاند اس وقت بھی تو ہوتا ہے جب کسی گھر میں شب نہیں ہوتی ہم نے دنیا میں کیا نہیں دیکھا حشر کی فکر اب نہیں ہوتی میکدے میں بھی کچھ نہ کچھ تو ہے بھیڑ یوں ہی غضب نہیں ہوتی کون سچا ہے کون جھوٹا ہے یہ جرح ہم سے اب نہیں ہوتی





