
Divya Bhasin Kochar
Divya Bhasin Kochar
Divya Bhasin Kochar
Ghazalغزل
خواب پھر آنکھ میں سجا کوئی زندگی میں ملے مزہ کوئی بعد عرصے کے آئنہ دیکھا شخص اس میں دکھا نیا کوئی آدمی جب گناہ کرتا ہے یاد آتا نہیں خدا کوئی چاند پانے کی ضد کیا کرتا مجھ میں رہتا ہے باورا کوئی ملک میں سنسنی سی پھیلے یوں مدعا روز ایک اٹھا کوئی بات کرتے تو بات بن جاتی دے گیا مجھ کو مشورہ کوئی
khvaab phir aankh mein sajaa koi
سرگم کے جیسے بجنے لگی میرے کان میں دستک جو آپ دے گئے دل کے مکان میں ماں نے بھرے جو حوصلے میری اڑان میں وہ سات رنگ بن کے کھلے آسمان میں دیں گے مثال لوگ مری بعد میں مرے جب ذکر آئے گا مرا اس داستان میں ہندی ہو بانگلا ہو یا اردو زبان ہو سب کا سمان مان ہے ہندوستان میں
sargam ke jaise bajne lagi mere kaan mein
ڈولی ارماں کہار ہے شادی چار دن کی بہار ہے شادی عمر بھر ہنس کے چلنا ہے جس پر تیز خنجر کی دھار ہے شادی ہار کر خود کو جیتنا ہے تمہیں دل کا ہی کاروبار ہے شادی عشق میں جو فنا ہوئے جیتے عاشقوں کی تو ہار ہے شادی داؤ سیدھا پڑا جو بازی میں پھر تو فصل بہار ہے شادی لے مزہ لطف جتنا جی چاہے ہوتی کب بار بار ہے شادی ایک ہی لفظ میں بتاؤں تو پھر تو بس اعتبار ہے شادی
Doli armaan kahaar hai shaadi
بکھرے ہوئے خیال کو لفظوں میں ڈھال کر غزلیں میں اپنی رکھتی ہوں اکثر سنبھال کر یادوں کی خوشبوؤں سے مہکتا ہے گھر مرا پڑھتی ہوں جب بھی خط میں پرانے نکال کر شہرت کما رہے ہیں یہ چینل نئے نئے ٹی وی پہ ایک دوجے کی پگڑی اچھال کر سارے گناہ رکھ لیے میں نے خوشی خوشی دویاؔ تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر
bikhre hue khayaal ko lafzon mein Dhaal kar
خوشی بن کر ہنسی بن کر دعا بن کر مہکتا ہے گھلے خوشبو بزرگوں کی جہاں وہ گھر مہکتا ہے مرے آنے کی جب پہنچے خبر سن کر مہکتا ہے مرے آتے ہی پیہر کا ہر اک پتھر مہکتا ہے سبھی کا دھیان بربس کھینچ لیتا ہے کہانی میں مرا کردار ادنیٰ سا ہے پر اکثر مہکتا ہے مرے لہجے میں اب گھلنے لگی ہیں خوشبوئیں تیری سبھی کہتے ہیں مجھ میں اب مرا دلبر مہکتا ہے مجھے دی تھی مری ماں نے جو اک تہذیب کی چونر میں جب بھی اوڑھ کر نکلوں تو میرا سر مہکتا ہے مجھے چھو کر گیا ہے جب سے تیری یاد کا جھونکا کھلا گلشن کوئی دویاؔ مرے اندر مہکتا ہے
khushi ban kar hansi ban kar du'aa ban kar mahaktaa hai
اس نے ہنس کر مجھے پکارا تھا کس کو محفل میں یہ گوارہ تھا وہ نمک ڈالتے تھے زخموں پر اپنوں کا بھی بڑا سہارا تھا موجوں کی سازشیں ہی لے ڈوبیں جب کہ نزدیک ہی کنارا تھا گھول دی کس نے نفرتیں گھر میں کب یہاں پر مرا تمہارا تھا بزم میں نام کب لیا بولو ہم نے تو بس کیا اشارہ تھا عمر دویاؔ ڈھلان پر تھی جب عشق تم سے ہوا دوبارہ تھا
us ne hans kar mujhe pukaaraa thaa





