
Divya Jain
Divya Jain
Divya Jain
Ghazalغزل
لے کے پرچم مرے دامن کا کھڑے ہیں سارے آ کے پھر جسم پہ پتھر یہ پڑے ہیں سارے دفن کرنے کی ہے انساں کو ضرورت اب کیا شرم سے خود میں ہی خود سے تو گڑے ہیں سارے زیست کی راہ کو اب اپنی بنانا تو مثال ہیں پشیمان جو منزل پہ کھڑے ہیں سارے کتنی پرواز بھرو اپنا نہ آغاز تجو پر بکھر کے تو زمیں پر ہی پڑے ہیں سارے بدلا ہے سارا جہاں بدلی نہ قوم عاشق ان کو سمجھایئے کیا چکنے گھڑے ہیں سارے عمر تو ساری گنوائی ہو نہ پائے انساں پر خدا بننے کو پھر بھی تو اڑے ہیں سارے خود کو کر ختم ہی کرتے ہیں وہ آغاز نیا پتے وہ زرد جو شاخوں سے جھڑے ہیں سارے
le ke parcham mire daaman kaa khaDe hain saare
پھر زباں پہ وہی بھولا سا فسانہ آیا یاد وہ بے خودی کا پھر سے زمانہ آیا لیتے انگڑائی ہیں غم زخم لگے ہیں رسنے یاد جب بھولا ہوا دوست پرانا آیا وہ ٹھہرتا ہے کہاں لاکھ بلائے کوئی لوٹ کے وقت کو تو تھا نہیں آنا آیا زلف ضدی جو جبیں کو مری چھوکر گزری ابر کو یاد کوئی وعدہ نبھانا آیا تیتری سنگ یہ دل آج جو آوارہ ہے لوٹ کے وقت وہ بچپن کا سہانا آیا چرچا محفل میں جو پھر آج میری تھی نکلی ہر گلی کوچے سے پھر میرا دیوانہ آیا کر لیا وعدہ لو پھر اس نے جو ملنے کا پھر دیکھنا کل نیا کیا یاد بہانہ آیا
phir zabaan pe vahi bhulaa saa fasaana aayaa
تھا شریک بزم غم میں ہم نواں کوئی نہیں درد دل کو حرف کرنے کا بیاں کوئی نہیں تھا خلاؤں میں بھٹکنا تنہا ہی جس کا نصیب تھا نہ چندہ سنگ اپنے کہکشاں کوئی نہیں رنگ بھر دو یوں کہ پھیلے بن دھنک جسم افق خوابوں کی تصویر سے بڑھ کے زباں کوئی نہیں کتنے دیواروں میں کھوئے درد و غم کے زلزلے آہوں سے جو ڈھ گیا ایسا مکاں کوئی نہیں مل کے بس وہ پل دو پل اپنے ہی گھر کو لوٹا ہے آئے جو بسنے زمیں پر آسماں کوئی نہیں دیکھتا ہے ہر کلی کو وہ بکھرتا بار بار گل اگانا چھوڑتا پر باغباں کوئی نہیں خاک کر دے گا غبار وقت تیرا یہ وجود جو رکے تیرے لیے وہ کارواں کوئی نہیں
thaa sharik-e-bazm-e-gham main ham-navaan koi nahin
ہر محبت میں کیوں یہ باب آئے عشق برباد کا نصاب آئے سوچ یہ پہنے خار ہے ہم نے شاخ ہستی پہ پھر گلاب آئے کیا کرے گا وہ میکدے جا کے جس کی قسمت میں مے نہ آب آئے پلکوں کے ڈالے نیند نے پردے کس دریچے سے ہو کے خواب آئے جستجو کو تو صبح روز اگا اس میں شاید کبھی تو تاب آئے چھوڑ ہم نے دیا وفا کرنا دیکھیں اس سمت کیا حساب آئے زندگی پوری دشت میں گزری اب تو بن موت ہی سراب آئے
har mohabbat mein kyuun ye baab aae
لگا ہے آئینہ نظر چرانے ہم کو دیکھ کر نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر وہ کیا تھی بات جو حبیب کر رہا حبیب سے لگا جو بات اور وہ بنانے ہم کو دیکھ کر وہ شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب لگا ہے مینڈھ کا دیا بجھانے ہم کو دیکھ کر ہماری پانے کو جھلک گزاری پوری شب ادھر لگا گلی کا موڑ وہ بھلانے ہم کو دیکھ کر تھا تھاما ہم نے ہر قدم پہ ننھے سے جو قدموں کو چھڑا کے ہاتھ اب لگا ہے جانے ہم کو دیکھ کر ہمارے بن تھے میکدے وہ بے سرور بے خمار کہ دیکھو پھر نشہ لگا ہے چھانے ہم کو دیکھ کر
lagaa hai aaina nazar churaane ham ko dekh kar
راس آیا نہیں ہم کو ترا آتے رہنا یوں ترا برسوں تلک وعدہ نبھاتے رہنا تو نے یہ جانا نہ آداب محبت کیا ہے ہر ملاقات پہ ملنے ترا آتے رہنا رائیگاں ہو گیا وہ گانا ترا راگ بسنت موسم خار میں پھولوں کو اگاتے رہنا اک سدا تیری بھی شامل تھی ہجوم طفلاں ہر سحر چھجے پہ مجھ کو بھی بلاتے رہنا جانتا تو نہیں کانٹے تو مرے دل میں چبھے پھول تیرا مری راہوں میں بچھاتے رہنا ہے یہ بے قفل قفس پر وہ پرندہ نہ اڑا قصۂ عشق ترا اس کو سناتے رہنا تیرے جیسا بھی ہے اک شخص زمانے بھر میں کب تلک مجنوں اور رانجھوں کو گناتے رہنا راکھ جب میں نے کریدی تو کہے چنگاری کام تم جیسوں کا ہے دنیا جلاتے رہنا روبرو آئنے کے روز میں آؤں کیسے کتنا مشکل ہے نظر خود سے ملاتے رہنا
raas aayaa nahin ham ko tiraa aate rahnaa





