SHAWORDS
Dr. Anand Kishore

Dr. Anand Kishore

Dr. Anand Kishore

Dr. Anand Kishore

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

jab kisi sahraa se ho kar ek dariyaa jaaegaa

جب کسی صحرا سے ہو کر ایک دریا جائے گا تشنگی کا خوف یارو دل سے مٹتا جائے گا دن میسر ہم کو ہوگا کیا کبھی ایسا بھی اک ہر کسی انساں کے منہ میں جب نوالا جائے گا کیا عداوت روپ بھی لے گی بغاوت کا کبھی کیا کوئی پتھر یقیناً پھر اچھالا جائے گا حادثہ سچ مچ ہوا تھا سامنے میرے مگر کیا حقیقت کو کبھی کاغذ پہ لکھا جائے گا دیکھنا وہ دوڑتا آ جائے گا میری طرف جب ادھر سے اس کی جانب اک اشارہ جائے گا اہل دل سے ہو سکے گا آج ملنا کیا خبر دیکھنا ہے ہاتھ سے کیا یہ بھی موقع جائے گا اس کنارے کی تمنا تیرے دل میں ہے مگر تو سمجھ لے دور تجھ سے یہ کنارہ جائے گا اس جہاں میں ہیں مسافر کی طرح آنندؔ سب فلسفہ جس نے یہ سمجھا سکھ وہی پا جائے گا

غزل · Ghazal

aaj bhi qaid in aankhon mein kahaani hai vahi

آج بھی قید ان آنکھوں میں کہانی ہے وہی مدتوں بعد بھی الفت کی روانی ہے وہی دھوپ کا جسم سر عام جلا کرتا ہے پھر بھی اس دھوپ کی پہلے سی جوانی ہے وہی وصل کی چاہ میں دوڑی ہے ندی ساگر تک آرزو اس کی زمانے سے پرانی ہے وہی جنم لیتی ہیں کہانی سے کہانی لاکھوں پھر بھی دیکھی ہے کہانی کی کہانی ہے وہی جب کلی کھل کے مہکتی ہے چمن کی ہر برس پھر تو گلشن میں بہاروں کی نشانی ہے وہی نسل در نسل بدلتا نہ کبھی ڈی این اے صرف عنوان بدلتے ہیں کہانی ہے وہی ہے نہیں کوئی سروکار کسی باطل سے جو رہا سب پہ ہے آنندؔ کا ثانی ہے وہی

غزل · Ghazal

ulfat ke jab se 'aam kai raaz ho gae

الفت کے جب سے عام کئی راز ہو گئے بدلے ہوئے جہان کے انداز ہو گئے حالانکہ روز آتے تھے مرضی سے اپنی وہ اک دن بلایا ہم نے تو ناراض ہو گئے پل پل بدلتے رنگ ہیں انسان کس کس طرح سمجھا تھا جن کو دوست دغاباز ہو گئے جن کا کوئی اتا نہ پتا تھا کسی کو بھی چڑیا ہوئی جواں تو کئی باز ہو گئے وہ رقص تھا کہ خوں سے زمیں لال ہو گئی خاموش جتنے بھی تھے وہاں ساز ہو گئے آنند کس طرح سے بدلتا ہے وقت بھی بزدل جو کل تلک تھے وہ جاں باز ہو گئے

غزل · Ghazal

sirf un ke dil mein basne ke liye

صرف ان کے دل میں بسنے کے لئے بک گئے ہم ایک سپنے کے لئے قطرے قطرے پر لکھی ہے داستاں آئے گا کیا کوئی پڑھنے کے لئے ایسی عادت غم کی ہم کو ہو گئی چاہیے غم کوئی ہنسنے کے لئے پہلے نوچا ہے پروں کو اور پھر کر دیا آزاد اڑنے کے لئے سوچتے ہیں آستیں کو دیکھ کر کیا انہیں پالا تھا ڈسنے کے لئے دوست دشمن غیر اپنے اجنبی تاک میں بیٹھے ہیں ڈنکنے کے لئے کتنے ہیں تیار دنیا میں جواں دیپ کی مانند جلنے کے لئے تیری کیا اوقات ہے آنندؔ جب شمس بھی مجبور ڈھلنے کے لئے

غزل · Ghazal

ye na sochaa thaa kabhi pyaar mein aisaa hogaa

یہ نہ سوچا تھا کبھی پیار میں ایسا ہوگا درمیاں بھیڑ کے بھی کوئی اکیلا ہوگا وہ زمانے میں کوئی شخص نرالا ہوگا جس نے مجبور کے کردار کو پرکھا ہوگا عشق وہ خشک زمیں ہے کہ جہاں میلوں تک دھوپ کا دشت کہیں ریت کا دریا ہوگا ایک میدان تصور میں مرے ہے کہ جہاں کوئی دیوار نہ دیوار کا سایہ ہوگا کیا میرے ملک میں ایسا بھی کبھی ہے ممکن کوئی مزدور نہ لاچار نہ بھوکا ہوگا پرشن اٹھتا ہے یہی بعد جلانے کے انہیں کیا چراغوں میں وہ پہلے سا اجالا ہوگا جو بھی آتا ہے یہاں لوٹ کے جانا ہے اسے سب کو دستور یہ دنیا کا نبھانا ہوگا ایسے حالات کا آنندؔ تصور مت کر جب کسی پر بھی کسی کو نہ بھروسا ہوگا

Similar Poets