
Dr. Kavita Vikas
Dr. Kavita Vikas
Dr. Kavita Vikas
Ghazalغزل
be-sabab ham kahin kab talak jaaeinge
بے سبب ہم کہیں کب تلک جائیں گے شام ہونے سے پہلے ہی تھک جائیں گے صبر ہوگا تو ہم دور تک جائیں گے ہار کے ڈر سے ورنہ ٹھٹک جائیں گے اب تو ہم بیٹیوں کو بھی دے دو فلک ہم ستاروں کے جیسے چمک جائیں گے تم رکھو باغ میں یا کہ گلدان میں پھول ہیں ہم کہیں بھی مہک جائیں گے جان پہچان ہو گر رسوخوں سے تو جرم چاہے ہوں سنگین ڈھک جائیں گے یاد ماضی کی جب بھی ہمیں آئے گی اشک بے ساختہ ہی چھلک جائیں گے
'ishq tujh se jo kar gayaa huun main
عشق تجھ سے جو کر گیا ہوں میں خود میں کتنا سنور گیا ہوں میں جس کو چھو کر گزر گیا ہوں میں اس کی خوشبو سے بھر گیا ہوں میں اک کھلونا سا سب کے ہاتھوں میں بس ادھر سے ادھر گیا ہوں میں وہ نہیں تو شرارتیں بھی نہیں دیکھو کتنا سدھر گیا ہوں میں اک ملاقات کیا ہوئی ان سے پھر امیدوں سے بھر گیا ہوں میں میری جانب وہ دیکھتے ہی رہے کچھ اثر ان میں کر گیا ہوں میں خواہشوں نے بہت تھکایا ہے اور بس اب ٹھہر گیا ہوں میں جب سے اپنے لیے لگا جینے لوگ کہتے ہیں مر گیا ہوں میں مجھ کو یارب پناہ میں لے لے دکھ کے جتھوں سے ڈر گیا ہوں میں





