
Dr. Mohammad Jamal
Dr. Mohammad Jamal
Dr. Mohammad Jamal
Ghazalغزل
ہم تازہ بہاروں کا پیغام تمہیں دیں گے کچھ خواب بھی چن چن کر ہر شام تمہیں دیں گے جو گھومتے پھرتے ہیں خوش رنگ لباسوں میں خود جرم کریں گے اور الزام تمہیں دیں گے اک عزم سفر ہے شرط اور کفر ہے مایوسی پیڑوں کے گھنے سائے آرام تمہیں دیں گے دھرتی پہ ابھرنے کا تم عزم کرو پہلے ہم چاند ستاروں کا انعام تمہیں دیں گے الجھن میں پڑے کیوں ہو تم اپنی کہانی کا آغاز سناؤ تو انجام تمہیں دیں گے اک دھوپ مرے منہ پر کیا پھینکی ہے ظالم نے وعدہ تھا کہ نظارے ہر گام تمہیں دیں گے ہاں جذبۂ ایماں کی تصدیق تو ہو پہلے وعدہ ہے کہ کوثر کا اک جام تمہیں دیں گے آیا ہے پرکھنے کا پھر وقت جمالؔ اک بار اوروں سے نہ ہوتا ہو وہ کام تمہیں دیں گے
ham taaza-bahaaron kaa paighaam tumhein deinge
آپ کو مجھ سے محبت کیسی اور اگر ہے تو شکایت کیسی ہائے سڑکوں پہ یہ ننگے بچے ملک خوش حال تو غربت کیسی اپنے زاہد سے کوئی پوچھے تو یہ ریاکار عبادت کیسی چھیڑنے کا تو نہیں ہوں عادی میرے کردار پہ حیرت کیسی بے ارادہ مرے گھر آئیے گا میں نہ پوچھوں گا یہ فرصت کیسی اپنے شیدائی پہ یہ ظلم و ستم جان جاں آپ کی عادت کیسی میں ہوں بے نام سا آوارہ سا آپ کی مجھ پہ عنایت کیسی کفر و الحاد سے ٹکراتے ہو اے جمالؔ آپ کی ہمت کیسی سب کو نا قدرئ فن کا ہے گلہ اے جمالؔ آپ کی حرمت کیسی
aap ko mujh se mohabbat kaisi
اک وہ بھی دن تھے ڈرتے تھے جب تیرگی سے ہم گھبرا رہے ہیں آج بہت روشنی سے ہم جینے کی دے رہا ہے دعا چارہ گر ہمیں مایوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم اچھا ہوا کہ تو نے ہمیں اب بھلا دیا تنگ آ گئے تھے یار تری دوستی سے ہم یہ زندگی ہے یا کہ مسلسل عذاب ہے دو چار دن گزار نہ پائے خوشی سے ہم پل بھر میں الفتیں ہیں تو پل بھر میں نفرتیں کیسے نبھائیں حسن کی بازی گری سے ہم امید تھی کہ دے کے صدا تم بلاؤ گے گزرے تھے بار بار تمہاری گلی سے ہم ویسے ہمارے آگے مسائل ہزارہا ہنس ہنس کے مل رہے ہیں مگر ہر کسی سے ہم مرنے کا اے جمالؔ ہمیں ڈر ہو کس لئے آئے تھے کب جہاں میں کچھ اپنی خوشی سے ہم
ik vo bhi din the Darte the jab tirgi se ham
کچھ انوکھے ہیں کھیل پیار کے دیکھ جیت مقصود ہو تو ہار کے دیکھ ہر طرف سرخ زرد نیلے پھول ٹھاٹھ یہ موسم بہار کے دیکھ درد اختر شماری بیتابی یہ نظارے بھی انتظار کے دیکھ تو نے ناداں اسے قبول کیا اپنے کندھوں سے بوجھ اتار کے دیکھ غیر ممکن ہے ان سے چھٹکارا سلسلے جبر و اختیار کے دیکھ اپنے رب کو قریب پائے گا تو کسی دن اسے پکار کے دیکھ لوگ مجبور جبہ سائی پر شعبدے صاحب مزار کے دیکھ پوچھتے ہیں کہ کیا تری خدمات کیسے نخرے ہیں اہل دار کے دیکھ
kuchh anokhe hain khel pyaar ke dekh
میرے داتا ترے سوا کیا ہو کسی دربار سے عطا کیا ہو زندگی زندگی جسے کہئے اس سے بڑھ کر کوئی بلا کیا ہو جو کرائے کے گھر بدلتے ہیں ان کا اک مستقل پتہ کیا ہو ماں جو تیرے لئے اٹھائے ہاتھ اس سے بڑھ کر کوئی دعا کیا ہو قتل غارت گری و ڈاکہ زنی اس کا انجام اے خدا کیا ہو میں بھی محتاج وقت بھی نادار پھر دیا کیا ہو اور لیا کیا ہو بزم میں یوں چلے تو جائیں گے یہ بتاؤ کہ مدعا کیا ہو جب عبارت ہے زندگی اس سے درد دل کی کوئی دوا کیا ہو بے رخی وہ برت رہے ہیں جمالؔ ابتدا یہ تو انتہا کیا ہو
mere daataa tire sivaa kyaa ho
یہ کہا سب سے دل بیمار نے غم دئے ہیں مجھ کو میرے یار نے دے دیا اپنائیت کا کچھ ثبوت میرے دامن سے الجھ کر خار نے ہاں خمیدہ ہو گئی میری کمر بوجھ اتنا رکھ دیا سرکار نے کر دیا مغرور نیتا کو بہت دیش کی جنتا کی جے جے کار نے کر دیا افسردہ یا پھر شادماں اک ترے انکار نے اقرار نے کر دیا یاد خدا سے بے نیاز آج کل دنیا کے کاروبار نے دشمنوں کو بھی ابھی کیسے جمالؔ میرا شیدائی بنایا پیار نے
ye kahaa sab se dil-e-bimaar ne





