
Dr. Mukta Sikarwar
Dr. Mukta Sikarwar
Dr. Mukta Sikarwar
Ghazalغزل
mohabbat rang laati hai javaani ki bahaaron mein
محبت رنگ لاتی ہے جوانی کی بہاروں میں نگاہیں ڈھونڈ لیتی ہیں صنم گر کو ہزاروں میں زمانے سے الگ اپنا ہمیں انداز رکھنا ہے چلو چل کے رہیں ہم تم شرافت کے دیاروں میں جنہیں پاگل سمجھنے کی زمانہ بھول کرتا ہے وفا محدود رہتی ہے انہیں الفت کے ماروں میں سمندر پار کرنے کا ارادہ تھا بہت اپنا مگر کشتی مری مکتاؔ الجھ بیٹھی کناروں میں
girte girte sanbhaal detaa hai
گرتے گرتے سنبھال دیتا ہے میرے قدموں کو چال دیتا ہے جب بھی مشکل میں دیکھتا ہے مجھے راہ کوئی نکال دیتا ہے کچھ بھلا دوں تو کیسے دوں اس کو وہ سلیقے سے ٹال دیتا ہے چاہے کتنا جواب دوں اس کو وہ نیا پھر سوال دیتا ہے جب بھی کھوتی ہوں شعر گوئی میں کوئی مصرع اچھال دیتا ہے زیست ایسے بسر ہوئی مکتاؔ یہ زمانہ مثال دیتا ہے
duniyaa vaalon ki haqiqat saamne jab aa gai
دنیا والوں کی حقیقت سامنے جب آ گئی با خدا انسانیت بھی دیکھ کے شرما گئی مرحلے کو ہی بھلا منزل سمجھ کے رک گئے راہگیروں کی نظر کس طور دھوکا کھا گئی چڑھ گئے ہیں سولیوں پر بے گناہوں کے بدن وقت کی ظالم ہوا کیسی قیامت ڈھا گئی مل رہا بے حد سکوں دل کو مرے اس بات سے میری ہستی دوسروں کے کام آخر آ گئی
un ke daaman mein khushiyon ke ambaar the
ان کے دامن میں خوشیوں کے انبار تھے ان بہاروں کے ہم بھی طلب گار تھے کیا شکایت کریں اپنی تقدیر سے ہم کو وہ ہی ملا جس کے حق دار تھے کچھ قدم ہی چلے ہیں مرے ساتھ وہ عمر بھر ساتھ دینے کے اقرار تھے ہنستے ہنستے وطن پہ فنا ہو گئے ماں کے وہ لاڈلے کتنے دلدار تھے لگ گئی ہے زمانہ کی ان کو ہوا اب سے پہلے کہاں وہ گنہ گار تھے پیار کرتے تھے مکتاؔ نبھاتے بھی تھے پہلے کے لوگ سچ میں وفادار تھے
chaand se guftugu ki hasrat hai
چاند سے گفتگو کی حسرت ہے چاندنی تو مری محبت ہے تنہا تنہا سفر نہیں کٹتا آج مجھ کو تری ضرورت ہے میں نے قدموں میں رکھ دیا ہے دل آپ کی اور کیا اجازت ہے مجھ کو انمول کر دیا تو نے میری قیمت تری بدولت ہے کون ہستی مٹائے گا میری مجھ پہ مکتاؔ خدا کی رحمت ہے





