SHAWORDS
Dr. Rakesh Joshi

Dr. Rakesh Joshi

Dr. Rakesh Joshi

Dr. Rakesh Joshi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

خنجر کو خنجر کہنا ہے ایسا اب اکثر کہنا ہے سہمے سہمے ڈرے ہوئے ہو ڈر کو بھی اب ڈر کہنا ہے شیشوں کے اس شہر میں آ کر پتھر کو پتھر کہنا ہے کھیتوں میں ہل لے کر نکلو بنجر کو بنجر کہنا ہے جنگل میں تم سب کو جا کر بندر کو بندر کہنا ہے سردی کے ہی موسم میں تو بے گھر کو بے گھر کہنا ہے عجب چلن ہے نئے شہر کا ظالم کو بھی سر کہنا ہے

khanjar ko khanjar kahnaa hai

غزل · Ghazal

اگر ہے منع لکھنا تو قلم کا کارخانہ کیوں اگر ہے منع پڑھنا تو یہاں کاغذ بنانا کیوں اسی دنیا میں بہتر اک نئی دنیا بسانے کو یہاں تک آ گئے ہیں تو یہاں سے لوٹ جانا کیوں وہاں لے کر ہی کیوں آیا جہاں پھسلن ہی پھسلن ہے یہ جنتا ہی نہیں سمجھی تو راجہ ہے تو مانا کیوں کئی برسوں سے اس پر ہی بحث جاری ہے سنسد میں جو بھیجا ایک روپے تھا تو پہنچا ایک آنا کیوں تمہیں گر آسماں کی سیر کرنی تھی تو کر لیتے کہیں پر باڑھ سوکھے کا ہی ہر دم یوں بہانا کیوں اگر جنگل کو پھر سے ایک دن جنگل بنانا تھا یہاں آ کر شہر میں پھر بنایا آشیانا کیوں

agar hai man' likhnaa to qalam kaa kaar-khaana kyon

غزل · Ghazal

تیری دعوت میں گر کھانا نہیں تھا تجھے تنبو بھی لگوانا نہیں تھا مرا کرتا پرانا ہو گیا ہے مجھے محفل میں یوں آنا نہیں تھا عمارت میں لگا لیتا اسے میں مجھے پتھر سے ٹکرانا نہیں تھا یہ میرا تھا سفر میں نے چنا تھا مجھے کانٹوں سے گھبرانا نہیں تھا سمجھ لیتا میں خود ہی بات اس کی مجھے اس کو تو سمجھانا نہیں تھا تجھے راجا بنا دیتے کبھی کا مگر افسوس تو کانا نہیں تھا چھپاتے ہم کہاں پر آنسوؤں کو وہاں کوئی بھی تہہ خانہ نہیں تھا محبت تو عبادت تھی کسی دن فقط جی کا ہی بہلانا نہیں تھا جہاں پر یدھ میں شامل تھے وو سارے وہاں تم کو بھی گھبرانا نہیں تھا

teri daa'vat mein gar khaanaa nahin thaa

غزل · Ghazal

دیواروں سے کان لگا کر بیٹھے ہو پہرے پر دربان لگا کر بیٹھے ہو اس سے زیادہ کیا بیچو گے دنیا کو سارا تو سامان لگا کر بیٹھے ہو دکھ میں ڈوبی آوازیں نہ سن پائے ایسا بھی کیا دھیان لگا کر بیٹھے ہو بیچ رہا ہوں میں تو اپنے کچھ سپنے تم تو سنویدھان لگا کر بیٹھے ہو ہم نے تو گن ڈالے ہیں ٹوٹے وعدے تم کیول انومان لگا کر بیٹھے ہو اپنے گھر کے دروازے کی تختی پر اپنی جھوٹی شان لگا کر بیٹھے ہو خوب اندھیرے میں ڈوبے ان لوگوں سے سورج کا ارمان لگا کر بیٹھے ہو جوجھ رہی ہے کٹھن سوالوں سے دنیا تم اب بھی آسان لگا کر بیٹھے ہو کتنے اچھے ہو تم اپنے باہر سے اچھا سا انسان لگا کر بیٹھے ہو

divaaron se kaan lagaa kar baiThe ho

Similar Poets