Dr. Roshan Aara
Dr. Roshan Aara
Dr. Roshan Aara
Ghazalغزل
zakhmi honTon ko phir hansaa lenaa
زخمی ہونٹوں کو پھر ہنسا لینا درد دھڑکن میں ہی چھپا لینا جن کی یادوں سے تم مہکتے ہو ایسے خوابوں کو پھر جگا لینا ہر مصیبت سے یہ بچاتی ہے ماں کی ہر روز تم دعا لینا تنہا راہوں سے جب گزرنا ہو دوست رستوں کو ہی بنا لینا تیری یادوں کی شام ہے اب تو بھول نہ جاؤں تم بلا لینا سوچ کر اس کی تشنگی دلبرؔ اشک پلکوں پہ تم سجا لینا
hasrato saaz uThaao to koi baat bane
حسرتو ساز اٹھاؤ تو کوئی بات بنے نغمۂ کیف سناؤ تو کوئی بات بنے میرے سینے میں نیا درد جگانے والو میری قسمت بھی جگاؤ تو کوئی بات بنے اشک آنکھوں میں چھپانے سے بھلا کیا حاصل بھیگی پلکوں کو اٹھاؤ تو کوئی بات بنے محفل دل کی فضا میں تو اندھیرا ہے بہت کچھ نئی شمعیں جلاؤ تو کوئی بات بنے بکھرے اشعار کے مانند ہے مستی میری اک غزل ان سے بناؤ تو کوئی بات بنے اپنے ہی دل کے شفق رنگ لہو سے دلبرؔ پھول پتھر پہ کھلاؤ تو کوئی بات بنے





