SHAWORDS
D

Dutta Saghar

Dutta Saghar

Dutta Saghar

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

دیے ماٹی کے نہیں دل کے جلا کرتے تھے کبھی اس ملک میں انساں بھی رہا کرتے تھے اب تو ڈستے ہوئے سناٹے ہیں بس دور تلک گوشے گوشے میں جہاں جشن ہوا کرتے تھے بے سہاروں کی قطاروں میں انہیں دیکھا ہے کبھی جو ہاتھ ستاروں کو چھوا کرتے تھے یہ اجنتا یہ حسیں تاج خبر دیتا ہے پتھروں میں بھی یہاں چاند کھلا کرتے تھے کیسے آتی نہ اثر لے کے فلک سے ساغرؔ لوگ ہونٹوں سے نہیں دل سے دعا کرتے تھے

diye maaTi ke nahin dil ke jalaa karte the

غزل · Ghazal

یاروں کی یاریاں ہیں سلامت تو مرحبا ہوتی رہے جو روز قیامت تو مرحبا ہم کو جہان بھر کے الم بھی چلو قبول بس آپ کی رہے جو عنایت تو مرحبا ویسے مجھے یقین ہے پھر بھی مرے اے دوست تیرا بھی گر خدا ہے محبت تو مرحبا دیوانہ کر گئی ہیں تری مسکراہٹیں یہ بھی اگر ہے تیری شرارت تو مرحبا نازک لبی سے آپ کی انکار تو نہیں لہجے میں بھی ہو تھوڑی لطافت تو مرحبا

yaaron ki yaariyaan hain salaamat to marhabaa

غزل · Ghazal

لڑکھڑاتے قدم ہیں اور میں ہوں بس ستم پر ستم ہیں اور میں ہوں دل کی محفل میں اب رکھا کیا ہے رقص پیہم الم ہیں اور میں ہوں دیر و کعبہ تمہیں مبارک ہو ان کے نقش قدم ہیں اور میں ہوں کتنی صدیاں گزر گئیں لیکن وہی ظلم و ستم ہیں اور میں ہوں اک ترا درد ہی نہیں تنہا ایسے کتنے ہی غم ہیں اور میں ہوں میری خاطر تو کیوں پریشاں ہے ساتھ تیرے کرم ہیں اور میں ہوں جانے ساقی کی آرزو کیا ہے خم‌‌ و‌‌ ساغر ہیں سم ہیں اور میں ہوں

laDkhaDaate qadam hain aur main huun

غزل · Ghazal

ابھی ادھورے ہیں گیت میرے ابھی ادھوری سی داستاں ہے نہ چاند نکلا نہ تارے دمکے نہ مسکراتی وہ کہکشاں ہے ابھی تو ہونٹوں پہ آہ سی ہے بجھی بجھی کچھ نگاہ سی ہے ابھی تو ہر سو خموشیاں ہیں ابھی تو ہر سو دھواں دھواں ہے ابھی تو راہوں میں پیچ و خم ہیں کہ حادثے بھی قدم قدم ہیں ابھی تو باقی کئی ستم ہیں ابھی تو باقی کچھ امتحاں ہے ابھی تو قوس قزح کے جیسے ہیں خواب بننے حسین کتنے وہ پھول بھی تو ابھی ہیں چننے ازل سے جن کی مہک رواں ہے

abhi adhure hain giit mere abhi adhuri si daastaan hai

Similar Poets