SHAWORDS
D

Dwijendra Dwij

Dwijendra Dwij

Dwijendra Dwij

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

ashk ban kar jo chhalakti rahi miTTi meri

اشک بن کر جو چھلکتی رہی مٹی میری شعلے کچھ یوں بھی اگلتی رہی مٹی میری میرے ہونے کا سبب مجھ کو بتاتی لیکن میرے پیروں میں دھڑکتی رہی مٹی میری کچھ تو باقی تھا مری مٹی سے رشتہ میرا میری مٹی کو ترستی رہی مٹی میری دور پردیش کے تارے میں بھی شبنم کی طرح میری آنکھوں میں چمکتی رہی مٹی میری لوک نرتیوں کے کئی تال سہانے بن کر میرے پیروں میں تھرکتی رہی مٹی میری صرف روٹی کے لیے دور وطن سے اپنے در بہ در یوں ہی بھٹکتی رہی مٹی میری میں جہاں بھی تھا میرا ساتھ نہ چھوڑا اس نے ذہن میں میرے مہکتی رہی مٹی میری کوششیں جتنی بچانے کی اسے کی میں نے اور اتنی ہی دھڑکتی رہی مٹی میری

غزل · Ghazal

zehn mein aur koi Dar nahin rahne detaa

ذہن میں اور کوئی ڈر نہیں رہنے دیتا شور اندر کا ہمیں گھر نہیں رہنے دیتا کوئی خوددار بچا لے تو بچا لے ورنہ پیٹ کاندھوں پہ کوئی سر نہیں رہنے دیتا آسماں بھی وہ دکھاتا ہے پرندوں کو نئے ہاں مگر ان پہ کوئی پر نہیں رہنے دیتا خشک آنکھوں میں اتر آتا ہے بادل بن کر درد احساس کو بنجر نہیں رہنے دیتا ایک پورس بھی تو رہتا ہے ہمارے اندر جو سکندر کو سکندر نہیں رہنے دیتا ان میں اک ریت کے دریا سا ٹھہر جاتا ہے خوف آنکھوں میں سمندر نہیں رہنے دیتا حادثوں کا ہے دھندلکا سا دویجؔ آنکھوں میں خوبصورت کوئی منظر نہیں رہنے دیتا

غزل · Ghazal

jitnaa dikhtaa huun mujhe us se ziyaada na samajh

جتنا دکھتا ہوں مجھے اس سے زیادہ نہ سمجھ اس زمیں کا ہوں مجھے کوئی فرشتہ نہ سمجھ یہ تری آنکھ کے دھوکہ کے سوا کچھ بھی نہیں ایک بہتے ہوئے دریا کو کنارا نہ سمجھ چھوڑ جائے گا ترا ساتھ اندھیرے میں یہی یہ جو سایہ ہے ترا اس کو بھی اپنا نہ سمجھ جن کتابوں نے اندھیروں کے سوا کچھ نہ دیا ان کتابوں کے اجالوں کو اجالا نہ سمجھ یہ جو بپھرا تو ڈبوئے گا سفینے کتنے تو اسے آنکھ سے ٹپکا ہوا قطرہ نہ سمجھ وہ تجھے بانٹنے آیا ہے کئی ٹکڑوں میں مسکراتے ہوئے شیطاں کو مسیحا نہ سمجھ تجھ سے ہی مانگ رہا ہے وہ تو خود اپنا وجود خود جو سائل ہے اسے کوئی خلیفہ نہ سمجھ ہے ترے ساتھ اگر تیرے ارادوں کا جنون قافلہ ہے تو کبھی خود کو اکیلا نہ سمجھ ساتھ ہیں میرے بزرگوں کی دعائیں اتنی میں ہوں محفل تو مجھے پل کو بھی تنہا نہ سمجھ

غزل · Ghazal

us kaa hai azm-e-safar aur nikharne vaalaa

اس کا ہے عزم سفر اور نکھرنے والا سخت موسم سے مسافر نہیں ڈرنے والا چار گر تجھ سے نہیں کوئی توقع مجھ کو درد ہوتا ہے دوا حد سے گزرنے والا نا خدا تجھ کو مبارک ہو خدائی تیری ساتھ تیرے میں نہیں پار اترنے والا اس پہ احسان یہ کرنا نہ اٹھانا اس کو اپنے پیروں پہ کھڑا ہوگا وہ گرنے والا پار کرنے تھے اسے کتنے سوالوں کے بھنور اٹکلیں چھوڑ گیا ڈوب کے مرنے والا میں اڑانوں کا طرفدار اسے کیسے کہوں بال و پر جو ہے پرندوں کے کترنے والا کیوں بھلا میرے لئے اتنے پریشاں ہو تم ایک پتہ ہی تو ہوں سوکھ کے جھرنے والا اپنی نظروں سے گرا ہے جو کسی کا بھی نہیں ساتھ کیا دے گا ترا خود سے مکرنے والا گرد حالات کی اب ایسی جمی ہے تجھ پر آئینے عکس نہیں کوئی ابھرنے والا یہ زمیں وہ تو نہیں جس کا تھا وعدا تیرا کوئی منظر تو ہو آنکھوں میں ٹھہرنے والا

غزل · Ghazal

aaine kitne yahaan TuuT chuke hain ab tak

آئنے کتنے یہاں ٹوٹ چکے ہیں اب تک آفریں ان پہ جو سچ بول رہے ہیں اب تک ٹوٹ جائیں گے مگر جھک نہیں سکتے ہم بھی اپنے ناموں کی حفاظت میں تنے ہیں اب تک رہنما ان کا وہاں ہے ہی نہیں مدت سے قافلہ والے کسے ڈھونڈ رہے ہیں اب تک اپنے اس دل کو تسلی نہیں ہوتی ورنہ ہم حقیقت تو تری جان چکے ہیں اب تک فتح کر سکتہ نہیں جن کو جنوں مذہب کا کچھ وہ تہذیب کے محفوظ قلعے ہیں اب تک ان کی آنکھوں کو کہاں خواب میسر ہوتے نیند بھر بھی جو کبھی سو نہ سکے ہیں اب تک دیکھ لینا کبھی منظر وہ گھنے جنگل کا جب سلگ اٹھیں گے جو ٹھونٹھ دبے ہیں اب تک روز نفرت کہ ہواؤں میں سلگ اٹھتی ہے ایک چنگاری سے گھر کتنے جلے ہیں اب تک ان اجالوں کا نیا نام بتاؤ کیا ہو جن اجالوں میں اندھیرے ہی پلے ہیں اب تک پر سکوں آپ کا چہرہ یہ چمکتی آنکھیں آپ بھی شہر میں لگتا ہے نئے ہیں اب تک خشک آنکھوں کو روانی ہی نہیں مل پائی یوں تو ہم نے بھی کئی شعر کہے ہیں اب تک دور اپنی ہے ابھی پیاس بجھانا مشکل اور دویجؔ آپ تو دو کوس چلے ہیں اب تک

غزل · Ghazal

main us darakht kaa bas aakhiri hi patta thaa

میں اس درخت کا بس آخری ہی پتہ تھا جسے ہمیشہ ہوا کے خلاف لڑنا تھا میں زندگی میں کبھی اس قدر نہ بھٹکا تھا کہ جب ضمیر مجھے رستہ دکھاتا تھا مشین بن تو چکا ہوں مگر نہیں بھولا کہ میرے جسم میں دل بھی کبھی دھڑکتا تھا وہ بچہ کھو گیا دنیا کی بھیڑ میں کب کا حسین خوابوں کی جو تتلیاں پکڑتا تھا پھر اس کے بعد پرندوں پہ جانے کیا گزری میں ایک پیڑ کی شاخوں کو کاٹ آیا تھا تمام عمر وہ آیا نہیں زمیں پہ کبھی ہوا میں اس نے جو سکہ جو کبھی اچھالا تھا مرا وجود بھی شامل تھا اس کی مٹی میں مرا بھی کھیت کی فصلوں میں کوئی حصہ تھا نہ جنے کتنی سرنگیں نکل گئیں اس سے کھڑا پہاڑ بھی تو آنکھ کا ہی دھوکہ تھا جو بات بات پہ کھاتا رہا خدا کی قسم قسم خدا کی وہی آدمی تو جھوٹا تھا پتہ کرو کہ ابھی وہ بڑا ہوا کہ نہیں بڑے درخت کے نیچے جو ننھا پودا تھا اس ایک شعر پہ آنکھیں چمک اٹھی اس کی وہ شعر جس میں کہ روٹی کا ذکر آیا تھا ہماری زندگی تھی اک تلاش پانی کی جہاں پہ ریت کا دویجؔ ایک چھنتا دریا تھا

Similar Poets