SHAWORDS
E

Ehsan Akhtar Ghazipuri

Ehsan Akhtar Ghazipuri

Ehsan Akhtar Ghazipuri

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ان کے ہونٹوں پہ کیوں ہنسی کم ہے کیا مری آنکھ میں نمی کم ہے میرے محبوب پھر کوئی جلوہ چشم بینا میں روشنی کم ہے حسرت دید رہ نہ جائے کہیں آ بھی جاؤ کہ زندگی کم ہے کیا کسی نے نقاب سرکا دی کیوں ستاروں میں روشنی کم ہے نقش پا ان کا چوم لیتے ہیں کیا ہماری یہ بندگی کم ہے جانے کیسے بہار آئی ہے لالہ و گل پہ تازگی کم ہے کیوں میں برسات کی دعا مانگوں کیا مری آنکھ میں نمی کم ہے شمع کی لو پہ رقص کرتے ہیں جن پتنگوں کی زندگی کم ہے بات کیا ہے کہ دل کی بیتابی کل بھی کم تھی اور آج بھی کم ہے میرے غم کا ہے یہ اثر اخترؔ ان کے ہونٹوں پہ بھی ہنسی کم ہے

un ke honTon pe kyon hansi kam hai

غزل · Ghazal

چشم ساقی اگر سلامت ہے ساغر و مے کی کیا ضرورت ہے چاک دامن ہے آنکھ ہے پر نم کیا یہی حاصل محبت ہے یہ غم دل یہ درد تنہائی میرے محبوب کی عنایت ہے حسن مغرور کیا پتا تجھ کو عاشقوں کا وجود رحمت ہے الجھنوں اور زلف برہم میں کوئی کیا جانے کتنی نسبت ہے میری توبہ کی آج خیر نہیں ہر ادا حسن کی قیامت ہے وہ نہ آئے تو ان کی یاد آئی یہ بھی اخترؔ بہت غنیمت ہے

chashm-e-saaqi agar salaamat hai

غزل · Ghazal

غنچہ و گل کی جستجو نہ رہی دل میں اب کوئی آرزو نہ رہی کوئی ایسا بھی ہوگا دنیا میں جس کو دنیا کی آرزو نہ رہی کر دیا چشم مست نے مدہوش حاجت ساغر و سبو نہ رہی یوں میں بیٹھا ہوں مطمئن ہو کر جیسے منزل کی جستجو نہ رہی اب وہ لائے ہیں ساغر و مینا مے کشی کی جب آرزو نہ رہی حسرت دید کے سوا اخترؔ نہ رہی کوئی آرزو نہ رہی

ghuncha-o-gul ki justuju na rahi

غزل · Ghazal

پینے پہ لگا کر پابندی دشنام کی باتیں کرتے ہیں یہ زاہد و عابد مسجد میں خود جام کی باتیں کرتے ہیں کیوں آج ہیں وہ گھبرائے ہوئے الزام کی باتیں کرتے ہیں آغاز محبت سے پہلے انجام کی باتیں کرتے ہیں جب میری وفا مشکوک نہیں پھر بات یہ کیسی ہوتی ہے محفل میں بلا کر آخر کیوں الزام کی باتیں کرتے ہیں کیا غنچہ و گل سے نسبت ہے بیکار ہے زینت گلشن کی کانٹوں پہ بسر کرنے والے آرام کی باتیں کرتے ہیں جب راز محبت کھلنے سے توہین محبت ہوتی ہے کیوں اشک ندامت آنکھوں میں الزام کی باتیں کرتے ہیں کس طرح گزارے ہجر کا دن یہ بات نہ پوچھو اخترؔ سے وہ صبح کی باتیں کیا جانیں جو شام کی باتیں کرتے ہیں

piine pe lagaa kar paabandi dushnaam ki baatein karte hain

غزل · Ghazal

ان کے بغیر چین نہ آئے تو کیا کروں ہر دم انہیں کی یاد ستائے تو کیا کروں یوں تو خود آشیاں سے قفس بھی قریب ہے بجلی بس آشیاں کو جلائے تو کیا کروں ذرے ہیں سنگ میل ستارے ہیں راہبر منزل جو کوئی پھر بھی نہ پائے تو کیا کروں بادل بھی ہے بہار بھی ہے بے خودی بھی ہے ایسے میں ان کی یاد ستائے تو کیا کروں توبہ کو میں عزیز ہوں توبہ مجھے عزیز لیکن کوئی نظر سے پلائے تو کیا کروں جی تو رہا ہوں حسرت جلوہ لئے ہوئے حسرت جو دید کی نہ بر آئے تو کیا کروں آئی تو ہے چمن میں بہار چمن مگر پھولوں کو اعتبار نہ آئے تو کیا کروں توبہ پھر آج جان کے اخترؔ نے توڑ دی فطرت سے اپنی باز نہ آئے تو کیا کروں

un ke baghair chain na aae to kyaa karun

غزل · Ghazal

قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہے خدا ہی حافظ ہے کارواں کا کہ راہ ہے راہبر نہیں ہے ہر ایک ذرے میں جلوہ ان کا ہر ایک جلوے میں حسن ان کا کہاں جھکائیں جبیں کو آخر کہاں ترا سنگ در نہیں ہے فریب رہزن میں دل کشی ہے اسی لئے اتنی بے خودی ہے جسے سمجھتے ہو راہبر تم وہ اصل میں راہبر نہیں ہے نہ جانے صحن چمن میں کیسی چمک سی رہ رہ کے ہو رہی ہے مرے نشیمن کے چار تنکو یہ برق کی تو نظر نہیں ہے مرے خلوص وفا کی منزل ہر ایک منزل سے مختلف ہے رہ طلب میں چلا ہوں تنہا مرا کوئی ہم سفر نہیں ہے شراب خانے میں جام مے کا سرور تو مختصر تھا لیکن جو چشم ساقی نے بخش دی ہے وہ بے خودی مختصر نہیں ہے جسے نہ بہکا سکی کبھی بھی کسی کی آنکھوں کی دل کشی بھی اسے بس اک گھونٹ ہی میں اخترؔ کچھ آج اپنی خبر نہیں ہے

qarib-e-manzil bhaTak rahe hain kisi ko apni khabar nahin hai

Similar Poets