Ehsan Sehgal
Ehsan Sehgal
Ehsan Sehgal
Ghazalغزل
مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں ادائیں یار کی درد زباں ہیں نہیں بنتی ہے آپس میں کوئی بات ہمارے درمیاں کچھ تلخیاں ہیں ہمیں ملنے نہیں اب کوئی آتا مقدر میں یہی تنہائیاں ہیں ہیں یہ بھی ایک حصہ زندگی کا ادھر دکھ ہیں ادھر شہنائیاں ہیں پلٹ کر جا نہیں سکتے وطن میں ہماری راہ میں بربادیاں ہیں نہ جاؤ خود ہمیں پڑھ لو سبق لو ہمی مغرب زدوں کی داستاں ہیں نہ کھلواؤ مرا منہ انجمن میں مرے دل میں کئی باتیں نہاں ہیں وفا بڑھتی ہے جن رشتوں سے اے دوست وہی رشتے ہمارے درمیاں ہیں نظر آتا نہیں سچائی کا لفظ یہ کیسے رہنماؤں کے بیاں ہیں
mavaaqe ishq ke vo ab kahaan hain
اب افسوس کرنے سے کیا ہوگا حاصل ہماری تباہی میں تم بھی تھے شامل قیامت جو گزری ہے ہم پر جہاں میں نہیں اس میں اپنی خطا کوئی شامل بس آنکھوں میں آئے ہوئے اشک پی کر دل غم زدہ پر تو رکھ صبر کامل ہے قبضہ سبھی ساحلوں پر عدو کا کہیں بھی نہیں میری کشتی کا ساحل دعا ہی ہوئی جب نہ پوری ہماری دل اپنا ہے اب تو گناہوں پہ مائل دعا مانگتا ہے ہمیشہ یہ سہگلؔ بنانا مجھے اپنے ہی در کا سائل
ab afsos karne se kyaa hogaa haasil
زیاں ہی ہے زیاں ہم سے نہ پوچھو یہ غیروں کی زباں ہم سے نہ پوچھو سنا سکتے نہیں حال الم میں ہماری داستاں ہم سے نہ پوچھو ہم اپنی ذات تک محدود ہیں دوست خیال عاشقاں ہم سے نہ پوچھو رہے ہیں زندگی بھر سادگی سے خرافات جہاں ہم سے نہ پوچھو کرو محسوس خود ہی بات سچی یقیں ہے اب کہاں ہم سے نہ پوچھو ہے کتنا تلخ کڑوا نفرت آمیز اب انداز بیاں ہم سے نہ پوچھو سجایا ہے گلوں سے باغ سارا کمال باغباں ہم سے نہ پوچھو جدھر دیکھو عناد و بغض کی دھار ہے ملا کی اذاں ہم سے نہ پوچھو کرو ادراک ہر اک گفتگو کا ہیں کیا گستاخیاں ہم سے نہ پوچھو برا مانیں گے کہہ دی گر حقیقت سلوک دوستاں ہم سے نہ پوچھو رقیبوں کی رقابت کیا بتائیں وہ دیں گے گالیاں ہم سے نہ پوچھو رہے ہیں ہم بھٹکتے خود ہی سہگلؔ سو منزل کا نشاں ہم سے نہ پوچھو
ziyaan hi hai ziyaan ham se na puchho





