Ehsas Muradabadi
Ehsas Muradabadi
Ehsas Muradabadi
Ghazalغزل
ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا زیست ہے مگر سونی عشق ہے مگر تنہا چشم سربسر ویراں قلب سربسر تنہا وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش حسن یار کی یورش اور مری نظر تنہا دل کی ایک اک حسرت چھوڑ کر ہوئی رخصت ہائے رے یہ سناٹا ہائے رے یہ گھر تنہا کیا قیامتیں یارو حسن کے جلو میں تھیں ہم نے دور تک دیکھا عشق تھا مگر تنہا ٹھوکریں ہی کھاؤں گا گر کے اٹھ نہ پاؤں گا منزل محبت میں میں چلا اگر تنہا دامن محبت پر دل کا خون بھی ہوگا تیرا غم منائے گی کیسے چشم تر تنہا
haan mujhe gavaaraa hai ishq kaa safar tanhaa
منور ہو کے کتنی داستان عاشقی آئی جہاں تک ذکر غم آیا نظر میں روشنی آئی تری اک اک نظر لے کر پیام زندگی آئی مری جانب سے لیکن کب محبت میں کمی آئی جبین شوق میں جب کوئی شان کافری آئی تو استقبال کرنے ہر قدم پر بندگی آئی یہ جان عاشقی ہے اس کو کس دل سے جدا کر دوں نہ جانے کتنے غم سہہ کر تو مجھ تک بیکسی آئی زہے قسمت کہ اس کو درد محرومی پسند آیا محبت عیش دو عالم کو ٹھکراتی ہوئی آئی یہ عالم ہے تو پھر ضبط محبت سے بھی کیا حاصل زباں پر ان کا نام آیا کہ آنکھوں میں نمی آئی کسی صورت میں ہو یہ دل کی نسبت چھپ نہیں سکتی مرے رونے پہ آخر اک تمہیں کو کیوں ہنسی آئی
munavvar ho ke kitni daastaan-e-aashiqi aai
مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا رہ محبت میں ہر قدم پر نشان ملتا ہے زندگی کا اسی محبت میں ہم پہ گزرا اک ایسا عالم بھی تیرگی کا بنا لیا آفتاب ہم نے ملا جو ذرہ بھی روشنی کا یکایک اک ہوک دل میں اٹھی پلٹ گیا رنگ زندگی کا بخیر یادش مرے لبوں پر ابھی ابھی نام تھا کسی کا جہاں سے دیکھو فسانۂ غم بنی ہوئی اضطراب پئےہم ہوں تیری نظریں بھی جس سے برہم کریں گے کیا ایسی زندگی کا یہ عہد غم کی نہیں حکایت تھی اس سے پہلے بھی ایسی حالت وہیں پہ ٹھہری نگاہ الفت جو رنگ دیکھا شکستگی کا جو دل پہ پیہم ہے بارش غم محبتیں ہو رہی ہیں محکم اضافہ کرتا ہے زندگی میں جو دن گزرتا ہے زندگی کا بیان غم کی لطافتیں ہیں محبتوں کی نزاکتیں ہیں وگرنہ احساسؔ سچ تو یہ ہے سلیقہ کیا مجھ کو شاعری کا
muqaabla hai gham-o-alam kaa to saamnaa ranj-o-be-kasi kaa
سوز آواز میں لہجے میں کھنک ہے ساقی عشق کا تیرے یقیں تو نہیں شک ہے ساقی میں نے کب تجھ سے کہا ہے مجھے شک ہے ساقی تیرے ماتھے پہ ستاروں کی چمک ہے ساقی کیا تری شوخئ گفتار کی تشریح کروں کتنی شیرینی ہے اور کیسا نمک ہے ساقی عشق کے سوز نے نغمات کو گرمی بخشی اب ترے ساز میں شعلوں کی لپک ہے ساقی میرے سانسوں میں جو بس جائے تو کیا اس کا علاج تو نہیں پاس مگر تیری مہک ہے ساقی میں بہک جاؤں تو یہ میری تنک ظرفی ہے اور اگر نشہ نہ ہو کس کی ہتک ہے ساقی دل احساسؔ میں جو روح تجلی ہے نہاں چاند تاروں میں کہاں اس کی جھلک ہے ساقی
soz aavaaz mein lahje mein khanak hai saaqi
کیا یہی اس کا مداوا نہ ہوا ایک بیمار جو اچھا نہ ہوا چار تنکے ہی سہی جل تو گئے کیا مرے دم سے اجالا نہ ہوا ان کی قربت ہی سہی حاصل زیست یہ تو انداز تمنا نہ ہوا ہے تمنائے طلوع خورشید اور اگر پھر بھی سویرا نہ ہوا پرسش غم تو ہوئی تھی لیکن ہم سے اظہار تمنا نہ ہوا لذت درد محبت کے سبب ہم کو مرنا بھی گوارا نہ ہوا غم نے وہ بزم سجائی احساسؔ میں ذرا دیر کو تنہا نہ ہوا
kyaa yahi us kaa mudaavaa na huaa
کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤ اس جنس گراں کو سر بازار تو لاؤ تمثیل جمال نگۂ یار تو لاؤ ممکن ہو جواب لب و رخسار تو لاؤ لو نام نہ یارو کہ بغاوت ہے بڑی شے تم پہلے ذرا جرأت گفتار تو لاؤ اب حسن میں پیدا ہیں پذیرائی کے آثار تم عشق میں کچھ جرأت اظہار تو لاؤ از راہ عقیدت اسے آنکھوں سے لگائیں تم کوئی حدیث لب و رخسار تو لاؤ اس کے لئے زنجیر بہاراں بھی ہے کافی گلشن میں کوئی تازہ گرفتار تو لاؤ آرام پس منزل دشوار ہے احساسؔ سایہ بھی ملے گا کوئی دیوار تو لاؤ
kahte hain ki yusuf kaa kharidaar to laao





