SHAWORDS
E

Ejaz Ahmad Ejaz

Ejaz Ahmad Ejaz

Ejaz Ahmad Ejaz

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

din bhi hai raat bhi hai mere saath

دن بھی ہے رات بھی ہے میرے ساتھ طرح میں سادگی ہے میرے ساتھ دل ربا دل لگی ہے میرے ساتھ اس لیے آگہی ہے میرے ساتھ رات بھی جاگتی ہے میرے ساتھ غم سراسر خوشی ہے میرے ساتھ آرزو ناچتی ہے میرے ساتھ شاعری منچلی ہے میرے ساتھ آشنا اجنبی ہے میرے ساتھ اک انوکھی ہنسی ہے میرے ساتھ وقت کی خامشی ہے میرے ساتھ ایک بستی بسی ہے میرے ساتھ

غزل · Ghazal

falak pe shaam Dhale jo chamakne lagte hain

فلک پہ شام ڈھلے جو چمکنے لگتے ہیں وہ تیری آنکھوں میں آ کر دمکنے لگتے ہیں سکوت شب میں ترا نام جب بھی لیتا ہوں صحیفے عشق کے دل پر اترنے لگتے ہیں غموں کی کالی گھٹاؤں کو چیر کر جاناں تری تجلی کے سورج دہکنے لگتے ہیں چمن چمن میں کھلے پھول لے کے نام ترا تصورات کے گلشن مہکنے لگتے ہیں تری صداؤں کے گھنگھرو فضا میں یوں چھنکے کہ جیسے باغ میں بلبل چہکنے لگتے ہیں تو بے ارادہ بھی جب زلف اپنی جھٹکائے سلگتے دشت پہ بادل برسنے لگتے ہیں تو جان توڑ کے لیتی ہے جب بھی انگڑائی خطوط جسم خلا میں ابھرنے لگتے لگتے ہیں ترے جنوں کا بھی اعجازؔ کیا مداوا ہو کہ چھیل لیتے ہو جب زخم بھرنے لگتے ہیں

غزل · Ghazal

savaal tujh se shab-o-roz meraa chaltaa rahaa

سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہا جواب تیرا ہواؤں میں مجھ کو ملتا رہا فلک پہ چاند ستاروں کا کارواں بھی بجھا تمہاری یاد کا لیکن چراغ جلتا رہا قریب مرگ جو دیکھا تو پاس کوئی نہ تھا تمام عمر یہ پھر کون ساتھ چلتا رہا بلا کے حبس میں ساری زمین سوکھ گئی مگر یہ پیار کا پودا تھا پھر بھی پھلتا رہا میں بے وفا بھی کہوں کس طرح تجھے جاناں تو بن کے باد صبا روز مجھ سے ملتا رہا میں اعتبار محبت کا تیری کیا کرتا بیان تیرا تو ہر روز ہی بدلتا رہا رفو میں کرتا بھی اعجازؔ کیسے زخموں کو زباں کا زخم تھا یہ گفتگو سے سلتا رہا

غزل · Ghazal

chale the ghar se to ham dard ki davaa ke liye

چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئے پڑے ہیں رستے میں تیرے مگر دعا کے لئے مبادا شب کی سیاہی زمیں کو کھا جائے نقاب رخ سے اٹھا دو ذرا خدا کے لئے کوئی چراغ تو آندھی سے بچ کے نکلے گا جلا دیئے ہیں بہت سے دیئے ہوا کے لئے یہاں تو روز نئی آفتوں سے پالا ہے حسینؔ کتنے اب آئیں گے کربلا کے لئے وہ جس نے طور پہ موسیٰ کو بے قرار کیا تڑپ رہی ہے نظر پھر اسی ادا کے لئے زمیں کا سینہ تو شعلوں کی مثل جلتا رہا ترس کے چل دیئے اعجازؔ اک گھٹا کے لئے

غزل · Ghazal

husn ki ritein ishq ki rasmein chhoTe bachche kyaa jaanein

حسن کی ریتیں عشق کی رسمیں چھوٹے بچے کیا جانیں شوخ ادائیں مبہم باتیں چھوٹے بچے کیا جانیں سیر ہوئے تو ہنس لیتے ہیں بھوک لگی تو روتے ہیں صبح بہاراں بھیگی راتیں چھوٹے بچے کیا جانیں کوہ سمندر صحرا جنگل خوب سمجھ لیتے ہیں لیکن کیسی ظالم ہیں یہ خلائیں چھوٹے بچے کیا جانیں سچائی ہے ان کا مذہب اپنی خطا بھی کہہ لیتے ہیں جھوٹ غبن دھوکے کی راہیں چھوٹے بچے کیا جانیں پریوں کے افسانے سن کر شہزادے بن بیٹھ گئے تلخ حقائق وقت کی شکلیں چھوٹے بچے کیا جانیں لوری سے اعجازؔ وہ اکثر اپنا جی بہلاتے ہیں گیت غزل قطعے اور نظمیں چھوٹے بچے کیا جانیں

غزل · Ghazal

sadaaqaton ke payambar gae rasul gae

صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئے خودی کی حرمت افضل گئی اصول گئے جو بو الہوس تھے سر عام دندناتے رہے جو حق پرست تھے سب پھانسیوں پہ جھول گئے گلا فقط ہے یہ زاہد کی پارسائی سے ذرا سا وقت پڑا ان کے سب اصول گئے خضر سے ہم بھی ملا کر قدم چلے تھے مگر مسافتوں کی طوالت سے سانس پھول گئے تمہارے جانے سے ہر اک کلی کا رنگ اڑا چمن سے فصل بہاراں گئی تو پھول گئے رہ حیات میں لاکھوں تھے ہم سفر اعجازؔ کسی کو یاد رکھا اور کسی کو بھول گئے

Similar Poets