SHAWORDS
E

Ejaz Ajmeri

Ejaz Ajmeri

Ejaz Ajmeri

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

khulti nahin hai is liye meri zabaan-e-gham

کھلتی نہیں ہے اس لئے میری زبان غم گھبرا نہ جائے سن کے کہیں داستان غم اس عاشقی میں کوئی نئی بات تو نہیں اک ناتواں سی جان بنی ہے جہان غم یہ بھی کسی طرح سے گوارا نہیں مجھے اوروں کی ہو زبان سے میرا بیان غم کرتا ہے صبر و ضبط سے مہماں نوازیاں دل بن گیا ہے شوق سے خود میزبان غم سر بھی جھکا لیا ہے اسی دل کے سامنے اعجازؔ کے لئے ہے یہی آستان غم

غزل · Ghazal

miri divaangi ko apni zulfon mein chhupaa baiThe

مری دیوانگی کو اپنی زلفوں میں چھپا بیٹھے تماشا دیکھنے والے تماشا کیوں دکھا بیٹھے بجز ان چار اشکوں کے ہمارے پاس تھا ہی کیا اسی دولت کے مالک تھے اسی کو ہم لٹا بیٹھے مری جانب سے پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے غصے میں تمہارے ہاتھ کیا آیا لگی میں کیوں لگا بیٹھے اب اس کا جیسا جی چاہے بھلا مانے برا مانے ہوئے مجبور اس دل سے تو ہم بھی در پہ آ بیٹھے کوئی واقف نہ تھا اعجازؔ اس دل کے تعلق سے حقیقت کھل گئی آخر جو وہ پردے میں جا بیٹھے عجب عالم تھا اے اعجازؔ رندوں کی مسرت کا مرے ہاتھوں میں جام آیا تو مے خانہ لٹا بیٹھے

غزل · Ghazal

sab un kaa haal dekh rahe hain nazar se ham

سب ان کا حال دیکھ رہے ہیں نظر سے ہم بیٹھے ہیں اس طرح سے کہ ہیں بے خبر سے ہم ہمت سے کام لے کے نگاہیں ملا تو لیں الجھن میں پڑ گئے ہیں پیام نظر سے ہم اڑنے لگا ہے پھیلتا جاتا ہے ہر طرف اس دامن خیال کو پکڑیں کدھر سے ہم دکھلا دیا جو آج مقدر نے اس کا در اک بوجھ تھا اتار چلے اپنے سر سے ہم دل میں اتر نہ آئیں وہ آنکھوں کی راہ سے دل کو بچا رہے ہیں خود اپنی نظر سے ہم راہیں بھی بند ہیں در تقدیر بھی ہے بند اس کے حریم ناز میں جائیں کدھر سے ہم ہیں اور کیا ارادے تمہیں اس کی فکر کیوں اعجازؔ پوچھ لیں گے اسی فتنہ گر سے ہم

غزل · Ghazal

us ke harim-e-naaz mein teraa guzar kahaan

اس کے حریم ناز میں تیرا گزر کہاں اے دل یہ سچ بتا کہ رہا رات بھر کہاں منزل سے دور گم شدۂ کارواں ہوں میں آئیں مری مدد کے لئے ہیں خضر کہاں عزلت نشین خلوت و مست خیال بن پھرتا رہے گا خاک بنا در بدر کہاں مجبور عشق ہوں کہ اٹھاتا ہوں اپنے ہاتھ گو جانتا ہوں میں کہ دعا میں اثر کہاں اک داستان شوق مرے دل میں ہے ابھی باتیں ہوئی ہیں یار سے جی کھول کر کہاں وہ میرے گھر پہ آئیں نہ آئیں بلا ہی لیں اعجازؔ میرا ایسا مقدر مگر کہاں

غزل · Ghazal

ba-faiz-e-ishq vo din bhi kabhi parvardigaar aae

بہ فیض عشق وہ دن بھی کبھی پروردگار آئے مرے گھر کوئی آ جائے مرے گھر میں بہار آئے کبھی تو آ ہی جاتا ہے وہ منظر بھی نگاہوں میں جہاں مرنے کو جی چاہے جہاں جینے میں عار آئے یہ ویرانی کا عالم ہے یہاں سب خانہ ویراں ہیں یہ دیوانوں کی دنیا ہے یہاں کوئی ہوشیار آئے بھرم سب کھل گیا اے شیخ تیری پارسائی کا سحر مسجد میں پہنچانے تجھے جب بادہ خوار آئے جنہیں اپنا سمجھتا تھا وہی نکلے ہیں بیگانے جہاں والوں پہ اب کیا خاک مجھ کو اعتبار آئے خدا نے حسن کچھ ایسا دیا ہے دیکھ کر جس کو مرا تو ذکر ہی کیا ہے زمانے بھر کو پیار آئے یہ کیسا دل بنایا ہے حسینوں کا خدا وندا نہ ہنسنا سازگار آئے نہ رونا سازگار آئے نگاہ مہر سے اس نے مجھے اعجازؔ دیکھا ہے مگر اس چلتے پھرتے سائے کا کیا اعتبار آئے

غزل · Ghazal

maza to jab hai gham-e-ishq aashkaar na ho

مزہ تو جب ہے غم عشق آشکار نہ ہو جگر پہ چوٹ لگے اور بے قرار نہ ہو یہ دل پسند نہ کر دیکھ داغدار نہ ہو اسے نہ توڑ محبت کی یادگار نہ ہو ذرا سنبھل کے مرے حال دل کو سنیے گا مری زباں کہیں شمشیر آبدار نہ ہو ہوئے ہیں میری طرف سے وہ بد گماں ایسے میں دل بھی چیر کے رکھ دوں تو اعتبار نہ ہو خفا نہ ہو تو بتا دوں وہ راز کی باتیں کچھ اور یاد دلا دوں جو ناگوار نہ ہو ہوا ہوں گم تو زمانہ تلاش کرتا ہے رہوں شریک تو میرا کوئی شمار نہ ہو پڑا ہوا ہے ترے در پہ اس لئے اعجازؔ کہیں تلاش کی زحمت نہ ہو پکار نہ ہو

Similar Poets