Ejaz Manpuri
Ejaz Manpuri
Ejaz Manpuri
Ghazalغزل
jo bahr-e-ehtiyaat mein paali nahin gai
جو بحر احتیاط میں پالی نہیں گئی اس زندگی کی ناؤ سنبھالی نہیں گئی ساحل سے دیکھتے رہے سب ڈوبتے ہوئے لیکن بھنور سے ناؤ نکالی نہیں گئی ان کے ہر اک اشارے پہ سر کو جھکا دیا مجھ سے بڑوں کی بات بھی ٹالی نہیں گئی پرکھوں سے اپنا طور ہے دستار باندھنا پگڑی کسی کی ہم سے اچھالی نہیں گئی گھونگھٹ شب عروس اٹھانے کی دیر تھی پھر چادر حجاب سنبھالی نہیں گئی
jo samundar hamein ghanghor ghaTaa detaa hai
جو سمندر ہمیں گھنگھور گھٹا دیتا ہے وہی قطروں کو بھی دریا سے ملا دیتا ہے جدت آموز زمانہ ہمیں کیا دیتا ہے راہ کی دھول سمجھتا ہے اڑا دیتا ہے مفلسی کتنی تڑپ اٹھتی ہے بیتابی سے آ کے سائل جو کبھی در پہ صدا دیتا ہے ضبط کا پیڑ گھنا دل میں لگائے رکھنا یہ گھنا پیڑ سدا ٹھنڈی ہوا دیتا ہے تہہ میں جاؤ گے تو موتی بھی ملیں گے تم کو بلبلہ سارے خزانے کا پتہ دیتا ہے چین سے رہتا ہے بنیاد کا پتھر اعجازؔ زلزلہ اونچی عمارت کو گرا دیتا ہے





