SHAWORDS
E

Ejaz Parwana

Ejaz Parwana

Ejaz Parwana

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کی گلہ قسمت کا ہے پھر کیوں نہ کوشش کی سمندر کی بڑے اخلاق والی ان کی اولاد نرینہ ہے شریعت کے تمسخر میں زباں چلتی ہے دختر کی اگر ہے خاکساری تو بلندی پر قدم ہوں گے جگہ فرعون حاصل کر نہیں سکتا سکندر کی خدا پر ہو یقیں کامل اگر انساں نہ ہو کاہل تلاطم خیز موجیں بھی مدد کرتیں سمندر کی قناعت صبر پروانہؔ یہ ہیں الفاظ اچھے پر نصیحت پر عمل خود کر نہ کھا ٹھوکر تو در در کی

milaa qatra to karte kyon shikaayat tum muqaddar ki

غزل · Ghazal

مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہے یقیں ہو جس کو خود پر وہ تلاطم سے نکلتا ہے ہتھیلی کی لکیروں سے نجومی کی ہی باتوں سے نکما اور کاہل تو خوشی سے بس اچھلتا ہے وفا کی راہ میں ہمدم غریبی ہو گئی حائل تجھے پانے کی خواہش میں مرا تو دل مچلتا ہے ہواؤں سے نہ گھبراؤ چراغوں کو جلانے دو شجاعت دیکھ کر اپنی عدو کا دل دہلتا ہے گئے وہ دن بنی آدم کہا کرتے تھے سچ ہر دم زباں کو حضرت انساں لباسوں سا بدلتا ہے سرابوں میں نہ پانی ہے حقیقت یہ پرانی ہے مگر رہبر ہمارا کیوں نہیں رستہ بدلتا ہے انا کی تم پرستش کو اصولوں میں گناتے ہو یہ پروانہؔ مگر بس انکساری سے پگھلتا ہے

musibat ke bhanvar mein bhi shanaavar vo sanbhaltaa hai

غزل · Ghazal

سب منافق ہی نظر آتے ہیں باطل کے سوا ہیں سبھی شاد مرے قتل پہ قاتل کے سوا اشک آنکھوں سے گناہوں کی ندامت میں بہے تب بھنور سے نہ کہیں پہنچا میں ساحل کے سوا خواب دیکھو ہے ترقی کی ضمانت بے شک سب کو تعبیر مگر ملتی ہے کاہل کے سوا مسلکی جھگڑے فروعی یہ مسائل کو لئے آگ عالم ہی لگاتے ہیں یہ جاہل کے سوا ہوش میں مے وہ تصوف کی ہی پینے سے رہے ہوش والے سبھی غفلت میں تھے غافل کے سوا ہم پہ الزام جو غدار وطن کا دھرتے اور ہو سکتے نہیں وہ کوئی بزدل کے سوا چاپلوسی سے ریا کاری سے بے غیرتی سے تم بنوگے سبھی کچھ رہبر کامل کے سوا بھوک شہرت کی تجھے دیکھ نہ گمنام کرے کام کر نام بھی ہوگا ترا حاصل کے سوا شکوہ ہر دم ہی تعصب کا نہ پروانہؔ کرو تم ہو قابل تو ملے کچھ بھی نہ منزل کے سوا

sab munaafiq hi nazar aate hain baatil ke sivaa

غزل · Ghazal

تری رحمتوں کا طالب مجھے آس تیرے در سے یہ قدم بہک نہ جائے مری مفلسی کے ڈر سے ہے تونگروں کا میلہ تو غریب ہے اکیلا ترا دل نہ ٹوٹ جائے تو ابھی نہ جا ادھر سے کئی جام خالی کرکے وہ ابھی بھی ہوش میں ہیں میں نشہ میں ہوں قسم سے میں نے پی جو لی نظر سے اسے خوف نے کنارے پہ پہنچنے نہ دیا تھا مجھے مل گیا تھا ساحل مرے حوصلوں کے ڈر سے نہیں برگ و گل ہیں جن پر وہی تن کے سب کھڑے ہیں وہ شجر تو فیض والا ہے جھکا ہوا ثمر سے مرے غم گسار تجھ کو تری رہبری مبارک میں خود اپنا رہنما ہوں مجھے کام ہے سفر سے

tiri rahmaton kaa taalib mujhe aas tere dar se

Similar Poets