Ejaz Ummeedi
Ejaz Ummeedi
Ejaz Ummeedi
Ghazalغزل
بتاؤ موسموں کی پاسبانی کون کرتا ہے زمیں سے آسماں تک حکمرانی کون کرتا ہے ہمارے دور میں ہر آدمی کا دل ہے پتھر کا کسی کے واسطے دل پانی پانی کون کرتا ہے نجانے کس کی سازش ہے وطن برباد کرنے میں شروع آخر فسادوں کی کہانی کون کرتا ہے وہ سوکھا پیڑ جس کی ٹہنیاں بے رنگ و روغن ہیں اسے پھر سے بہاروں کی نشانی کون کرتا ہے
bataao mausamon ki paasbaani kaun kartaa hai
ہے دعاؤں میں برکت بہت ماں نے دی ہے یہ دولت بہت جس سے کی تھی محبت بہت اس نے دی ہے اذیت بہت ہائے انساں کی مجبوریاں زندگی کم ضرورت بہت سوکھے ٹکڑوں سے نفرت نہ کر ان میں ہوتی ہے لذت بہت پانی پانی کیا خون کو تب ملی مجھ کو شہرت بہت ہم ہیں بانی مساوات کے ہم نے کی ہے حکومت بہت کامیابی کے ہر موڑ پر آڑے آئی ہے غربت بہت اور اعجازؔ کیا چاہیے تجھ پر اس کی ہے رحمت بہت
hai du'aaon mein barkat bahut





