
Elizabeth Kurian Mona
Elizabeth Kurian Mona
Elizabeth Kurian Mona
Ghazalغزل
کھو گئے ہو تم جب سے وقت کی خلاؤں میں مانگتی ہوں میں تم کو رات دن دعاؤں میں مجھ کو تھی یہ خوش فہمی پھر بہار آئے گی رونقیں کہاں آتیں دل کے ان خزاؤں میں دل دھڑکنے لگتا ہے سن کے ہلکی آہٹ بھی تیرے پیار کی دستک جو ہوئی ہواؤں میں بھولنے کی کوشش بھی کامیاب کیا ہوتی عکس تیرا دکھتا ہے مجھ کو سب دشاؤں میں ساتھ تیرا پاؤں گر کھل اٹھے گا پھر جیون انتظار کا عالم ہے ابھی فضاؤں میں پھر سے شام تنہائی یاد تیری لائی ہے پھر سے کھو گیا ہے دل ماضی کی گپھاؤں میں کیا گلہ کروں موناؔ تیری بے وفائی کا جب وفا نہیں شامل حسن کی اداؤں میں
kho gae ho tum jab se vaqt ki khalaaon mein
غم کسی کا مٹا کر تو دیکھو اپنے غم کو بھلا کر تو دیکھو رنگ چہرے کا ظاہر کرے گا راز الفت چھپا کر تو دیکھو تم سے سارا زمانہ جلے گا نام و شہرت کما کر تو دیکھو دوست دشمن کی پہچان ہوگی درد اپنا سنا کر تو دیکھو اک ذرا مسکراہٹ سے اپنی رنجشوں کو ہٹا کر تو دیکھو عیب اوروں کے گننے سے پہلے خود سے نظریں ملا کر تو دیکھو بے خودی چیز ہوتی ہے کیسی دل کسی پر لٹا کر تو دیکھو لوگ کیسے بدلتے ہیں موناؔ کوئی رشتہ نبھا کر تو دیکھو
gham kisi kaa miTaa kar to dekho
دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں لیکن تجھ کو بھول سکوں میں ایسی بھی تو بات نہیں بدلے بدلے سے لگتے ہیں آج یہ تیرے تیور کیوں پہلے جیسے کیوں اب تیرے پیار کے وہ جذبات نہیں میرے ہاتھ کی ساری لکیریں الجھی الجھی لاکھ سہی ان میں مجھ کو تو مل جائے ہوگی میری مات نہیں تم سے بچھڑے عرصہ بیتا پھر بھی عکس ہے آنکھوں میں آئے نہ ہو تم خوابوں میں جو ایسی کوئی رات نہیں خوش قسمت ہیں لوگ وہ جن کو پیار کے بدلے پیار ملا اس دنیا میں ہر انساں کو حاصل یہ سوغات نہیں جاتے جاتے غم کی دولت تم نے بھر دی جھولی میں اب یہ زیست کا سرمایہ ہے معمولی خیرات نہیں درد بھری ہے یاد ماضی پھر بھی بس جی لیتے ہیں ہم نے جانا ہر منڈپ میں آتی ہے بارات نہیں چاہے بہار کا موسم ہو یا وصل کا کوئی عالم ہو بیت گئے جو پھر سے واپس آتے وہ لمحات نہیں جب جب تم یاد آئے موناؔ بھر آئیں میری آنکھیں آگ لگائے دل میں آنسو یہ کوئی برسات نہیں
daaman teraa mujh se chhuTaa milne ke haalaat nahin
زیست میں غم ہیں ہم سفر پھر بھی تا اجل کرنا ہے بسر پھر بھی ٹوٹی پھوٹی ہوں چاہے دیواریں اپنا گھر تو ہے اپنا گھر پھر بھی چاہے انکار ہم کریں سچ کا ہووے ہے ذہن پر اثر پھر بھی دل مچلتا ہے ان سے ملنے کو ہم چراتے رہے نظر پھر بھی ہے یقیں تم ہمیں نہ بھولو گے اک زمانہ گیا گزر پھر بھی ہیں یہ الفاظ دل لبھانے کے کاش شاید یوں ہی مگر پھر بھی
ziist mein gham hain ham-safar phir bhi
ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا دل ہی ہے ایک آسرا دل کا چار سو بے خودی میں پھرتا ہے کچھ ٹھکانا نہیں رہا دل کا رسم دنیا کو کیوں یہ مانے گا ہے الگ جگ سے قاعدہ دل کا شیخ و پنڈت کو کوئی سمجھائے رب سے رہتا ہے رابطہ دل کا راہ انسانیت ہی اول ہے ہے یقیناً یہ فلسفہ دل کا دو جہاں بھی یہاں سما جائیں کتنا پھیلا ہے دائرہ دل کا لب تلک آ کے بات ہی بدلی کیا کرے لفظ ترجمہ دل کا عقل کب آئے گی تمہیں موناؔ مانتے کیوں ہو تم کہا دل کا
hai nahin koi naakhudaa dil kaa
خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے چلا رنگ دل کا پتہ رفتہ رفتہ بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر وہ دیتا ہے سب کو صلہ رفتہ رفتہ سنی بھوکے بچے نے جب ماں کی لوری تو رو رو کے وہ سو گیا رفتہ رفتہ ترے بن بھی کٹ جائے گی عمر لیکن چھڑا اپنا دامن ذرا رفتہ رفتہ نظر جو ملی دل ہوا راکھ جل کر دھواں پھر اسی سے اٹھا رفتہ رفتہ چمن میں کھلیں ہنستے ہنستے جو کلیاں تو خوشبو سے مہکی فضا رفتہ رفتہ نہ گھبراؤ موناؔ پریشانیوں سے اثر لائے گی ہر دعا رفتہ رفتہ
khushi ki mili ye sazaa rafta rafta





