Fahd Hameedi
آنکھوں میں نمودار ہے تصویر تمہاری ہر شخص کو دکھتی ہے یہ تاثیر تمہاری الزام بھی دیں کس کو کہ یہ روز ازل سے ملتی ہی نہیں ہم سے یہ تقدیر تمہاری بے رنگ سبھی خواب یہ کرتے ہیں شکایت مورت ہو کبھی ذہن میں تعمیر تمہاری اوروں کا بھی ہونے نہیں دیتی کبھی مجھ کو پاؤں سے یہ لپٹی ہوئی زنجیر تمہاری رستہ ترا تکنا بھی گوارا نہیں مجھ کو دشمن بھی نہیں عادت تاخیر تمہاری سب کچھ ہے تمہارا یہاں کچھ بھی نہیں میرا یہ خواب تمہارا ہے یہ تعبیر تمہاری چپ چاپ ترا خط میں لئے دور یوں نکلا بارش جو ہوئی مٹ گئی تحریر تمہاری
aankhon mein numudaar hai tasvir tumhaari