SHAWORDS
Faheem Amrohvi

Faheem Amrohvi

Faheem Amrohvi

Faheem Amrohvi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

Duubaa huaa saa khuun mein khaavar dikhaai de

ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے گویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دے لوگو تمہارا شہر تو شیشے کا شہر ہے پھر بھی ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دے مدت سے میرے گاؤں کے چولھے بھی سرد ہیں لیکن اک آگ ہے کہ جو گھر گھر دکھائی دے یہ کیا کہ میرے فکر و عمل میں تضاد ہے مجھ کو تو کوئی میرے ہی اندر دکھائی دے یہ راستہ نیا ہے ذرا غور تو کرو شاید یہیں کہیں پہ مرا گھر دکھائی دے

غزل · Ghazal

ham ne buDhon se ye suni hai miyaan

ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاں بات وہ ہے جو ان کہی ہے میاں اپنی سانسیں بھی اپنے بس میں نہیں زندگی خاک زندگی ہے میاں جس کے تن پر لباس تک بھی نہیں وہ بھی کیا کوئی آدمی ہے میاں میرے الفاظ لکھ کے تم رکھ لو ابھی آواز دب رہی ہے میاں تم نہیں بولتے تو یوں ہی سہی ہم نے بھی چپ کی سادھ لی ہے میاں

غزل · Ghazal

barsar-e-rozgaar the pahle

برسر روزگار تھے پہلے ہم بھی یاروں کے یار تھے پہلے آج یہ زیست ہم پہ بار سہی زیست پر ہم بھی بار تھے پہلے آج ہم وقت کو پکارتے ہیں وقت کی ہم پکار تھے پہلے آؤ اب ان کی چھاؤں بھی ڈھونڈیں جو شجر سایہ دار تھے پہلے گو کہ خوشیاں ہیں بے شمار مگر غم بہت خوش گوار تھے پہلے

غزل · Ghazal

sochtaa huun kidhar gae ham log

سوچتا ہوں کدھر گئے ہم لوگ جی رہے ہیں کہ مر گئے ہم لوگ رات بھر ایک ایک جمع ہوئے پو پھٹے ہی بکھر گئے ہم لوگ اپنا گھر ڈھونڈنے کو کیا نکلے جانے کس کس کے گھر گئے ہم لوگ یہ مکاں شہر بھائی اور بہن ان حدوں سے گزر گئے ہم لوگ دل کہیں ہے تو دست و پا ہیں کہیں جسم تقسیم کر گئے ہم لوگ

غزل · Ghazal

raat kaTi hai rote rote

رات کٹی ہے روتے روتے غم کا بوجھا ڈھوتے ڈھوتے زخموں کی سوغات ملی ہے داغ پنہاں دھوتے دھوتے گھر پچھوارے کیسا غل ہے جاگ نہ جاؤں سوتے سوتے عہد جوانی بھاری پتھر تھک جاؤں گا ڈھوتے ڈھوتے یہ بھی وقت کا دھوکا سمجھو کوئی ہنسے جو روتے روتے

غزل · Ghazal

tum jo ho paas to kami kyaa hai

تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہے تم نہ ہو تو یہ زندگی کیا ہے گردش وقت یہ تو بتلا دے پھول کیا چیز ہے کلی کیا ہے کوئی لمحہ رکے تو میں پوچھوں وقت کو ایسی بیکلی کیا ہے ایک سانسوں کے سلسلے کے سوا ہم غریبوں کی زندگی کیا ہے بند کمروں کے باسیوں سے نہ پوچھ صبح کیا شے ہے روشنی کیا ہے عقل مبہوت ہو گئی فوراً جب بھی سوچا کہ زندگی کیا ہے ان چراغوں تلے اندھیرا ہے ان چراغوں میں روشنی کیا ہے عدل بہرا ہے گنگ ہے مظلوم کوئی کس سے کہے کوئی کیا ہے ہاں نہیں ہے تو بس وفا ورنہ میرے احباب میں کمی کیا ہے

Similar Poets