SHAWORDS
Faisal Khayyam

Faisal Khayyam

Faisal Khayyam

Faisal Khayyam

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

سمندر میں اتارا جا رہا تھا مجھے دھوکے سے مارا جا رہا تھا جہاں سے آج تک گزرا نہیں میں اسی جانب دوبارہ جا رہا تھا نوازش نام کی تھی درحقیقت ہمیں سر سے اتارا جا رہا تھا بنا تیرے وہ اک چھوٹا سا لمحہ کہاں مجھ سے گزارا جا رہا تھا یہی تھی سوکھے دریا کی کہانی کہیں تنہا کنارہ جا رہا تھا

samundar mein utaaraa jaa rahaa thaa

غزل · Ghazal

چترا اور جگجیت کا گایا ہوا گیت ہے تو مجھ پہ فلمایا ہوا مجھ کو تیری گالیاں اچھی لگیں مجھ پہ تیری دھوپ کا سایہ ہوا بارہا دیکھو اسے جاتے ہوئے یاد رہ جائے گا دہرایا ہوا اتنے خالی برتنوں کو دیکھ کر ابر بھی چھٹ جائے گا چھایا ہوا آنکھ میں نمکین پانی ہے خیامؔ ہاتھ میں ہے پھول مرجھایا ہوا

chitraa aur jagjit kaa gaayaa huaa

غزل · Ghazal

غزل کی سمت اس جانب سے بھی رستہ نکالیں گے تمہاری گفتگو سے ہم کوئی مصرع نکالیں گے ہمیں دفتر میں آ کر بھی یہی محسوس ہوتا ہے ابھی اسکول لگ جائے گا اور بستہ نکالیں گے تمہاری آنکھ سے تنکا نکالا جائے گا پہلے ہم اس کے بعد اپنے پیر سے کانٹا نکالیں گے جنہیں تم قہقہوں اور تالیوں سے داد دیتے ہو تماشا ختم ہونے پر یہی کاسہ نکالیں گے محبت کا یہ پہناوا ہمارے تن پہ سجنا ہے ہم اس کرتے کی کف سے فالتو دھاگہ نکالیں گے تمہاری فیض یابی کی سبیلیں لگ گئیں فیصلؔ جنہیں کھڑکی کی حاجت تھی وہ دروازہ نکالیں گے

ghazal ki samt is jaanib se bhi rasta nikaaleinge

غزل · Ghazal

اب دیکھ رہے ہو نہ پذیرائی ہماری صد شکر زمانے کو سمجھ آئی ہماری تم کو نہ بدلنا پڑے تالاب کا پانی تم کو نہ بسر کرنی پڑے کائی ہماری افلاک کے اس پار نظر آتا تھا ہم کو تو تھا تو بہت تیز تھی بینائی ہماری تم بھیج نہیں سکتے ہو گلزار کی نظمیں تم بانٹ نہیں سکتے ہو تنہائی ہماری پرکھو کسی میزان پہ معیار بصیرت ماپو کسی پیمانے سے گہرائی ہماری

ab dekh rahe ho na paziraai hamaari

Similar Poets