
Faisal Mahmood
Faisal Mahmood
Faisal Mahmood
Ghazalغزل
کہاں گئی وہ روشنی وہ رت جگے کہاں گئے چراغ جانے کیا ہوئے وہ طاقچے کہاں گئے زمین ان کو کھا گئی کہ آسماں نگل گیا جو ہارتے کبھی نہ تھے وہ ہار کے کہاں گئے وطن کو چھوڑتے سمے کوئی تو ہم کو روکتا وہ منتیں کہاں گئیں وہ واسطے کہاں گئے برا لگے نہ آپ کو تو ایک بات پوچھ لوں مرے تو خیر آپ تھے پر آپ کے کہاں گئے ہمیں تو کچھ خبر نہیں کہ ہم کہاں ہیں آج کل ہمیں تو ہوش بھی نہیں کہ آبلے کہاں گئے میں سوچتا ہی رہ گیا وہ لوگ جانے کیا ہوئے میں دیکھتا ہی رہ گیا کہ قافلے کہاں گئے یہاں بڑا ہجوم تھا یہیں کہیں تھیں رونقیں وہ دوستی کہاں گئی وہ رابطے کہاں گئے
kahaan gai vo raushni vo ratjage kahaan gae
میاں شعر کہنا جو آسان ہوتا تو اب تک ہمارا بھی دیوان ہوتا خدا کے کرم سے ہے دل سبز و شاداب اداسی نہ ہوتی تو ویران ہوتا میں کچھ ایسے حالات سے لڑ رہا ہوں مرا باپ ہوتا تو حیران ہوتا اگر آج کرتے حساب محبت مرے ہاتھ تیرا گریبان ہوتا بھلا ہو کہ ہجرت بڑے کام آئی ترے ساتھ ہوتا تو نقصان ہوتا مجھے ہی محبت تھی تجھ سے وگرنہ مری طرح تو بھی پشیمان ہوتا
miyaan she'r kahnaa jo aasaan hotaa
خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے جو آستیں کے سانپ تھے وہ اب یہاں نہیں رہے بہت دنوں کی بات ہے یہیں کہیں پہ زخم تھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اب نشاں نہیں رہے اور ایک دن ہم آپ کی یہ دنیا چھوڑ جائیں گے خبر ملے گی آپ کو کہ ہم یہاں نہیں رہے نہ پہلے جیسی سرکشی نہ دل میں کوئی خواہشیں کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم جواں نہیں رہے نکل کے تیرے دل سے ہم جو لا مکاں میں کھو گئے تو سوچ کر ذرا بتا کہ اب کہاں نہیں رہے ہمارے دل نے آج بھی ہمیں کہا کہ بات سن فلاں کو دفن کر دیا اور اب فلاں نہیں رہے
khudaa kaa laakh shukr hai ki sab nihaan nahin rahe
بار دگر ہم اہل ہنر سوچتے نہیں چھاؤں لٹاتے وقت شجر سوچتے نہیں یہ زندگی کے مسئلے تو ساتھ ساتھ ہیں آ بیٹھ میکدے میں جگر سوچتے نہیں کیسے کہاں سے ہم کو یہ گرد سفر ملی کچھ سوچنا تو چاہیے پر سوچتے نہیں گر چل پڑا ہے ساتھ تو پیچھے نہ مڑ کے دیکھ اے جان جاں ہم اہل سفر سوچتے نہیں ہم ایسے لوگ عشق میں بس جھومتے ہیں دوست بس جھومتے ہیں محو سفر سوچتے نہیں
baar-e-digar ham ahl-e-hunar sochte nahin
ہوا کا جھونکا نہ کوئی آہٹ کسی طرف سے میں خوش گمانی میں مبتلا تھا تری طرف سے عجب سی حالت ہے آج دل کی معاف کرنا اگر کسی کا بھی دل دکھا ہو مری طرف سے تجھے پتہ ہے صدائیں آتی ہیں مجھ کو شب بھر تو جس جگہ پر جدا ہوا تھا اسی طرف سے یہ رفتہ رفتہ جو بجھ رہے ہیں چراغ میرے ہوائیں کیسی یہ چل پڑی ہیں تری طرف سے بس اک طرف ہی پڑا ہوا ہوں کئی دنوں سے میں مشکلوں میں گھرا ہوا ہوں سبھی طرف سے
havaa kaa jhonkaa na koi aahaT kisi taraf se
بیچ سڑک پر الجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا رستے رستے ہوتے ہیں میں ہوں میری تنہائی ہے اور اک میرا سایہ ہے کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے جیسے اپنے ہوتے ہیں مجھ کو اچھا کہنے والے شاید تجھ کو علم نہیں پہلے پہلے ملنے والے سارے اچھے ہوتے ہیں جتنا ممکن ہو سکتا تھا خود کو رستہ دکھلایا آخر ہم پر بھید کھلا کچھ لوگ ہی اندھے ہوتے ہیں گلیوں گلیوں پھرنے سے کب عشق مکمل ہوتا ہے منزل ان کو ملتی ہے جو ایک ہی در کے ہوتے ہیں
biich saDak par uljhan mein hain jaise bhaTke hote hain





