SHAWORDS
Faisal Saghar

Faisal Saghar

Faisal Saghar

Faisal Saghar

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

صدائے کن ہوئی یکسر وجود میں آیا میں بھر چکا تو سمندر وجود میں آیا اور اس سے پہلے یہاں کچھ نہیں تھا کچھ بھی نہیں یہ میرے دیکھتے منظر وجود میں آیا خدا کو شکل کی حسرت ہوئی تھی جس لمحے سنا ہے تب مرا پیکر وجود میں آیا اسے بتایا تھا میں نے میں رنگ لاتا نہیں وہ جانتے ہوئے بنجر وجود میں آیا یہ لوگ جس کا تصور بھی کر نہیں سکتے وہ میرے واسطے اکثر وجود میں آیا وہ ٹوٹ پھوٹ کسی کام آ گئی فیصلؔ میں پہلے سے کہیں بہتر وجود میں آیا

sadaa-e-kun hui yaksar vujud mein aayaa

غزل · Ghazal

میں گراں بار تھا اس واسطے کم مایہ تھا تجھ کو کیوں روندا گیا تو تو فقط سایہ تھا کل کھلا کتنے دنوں بعد یہ دروازۂ دل کل کوئی کتنے دنوں بعد یہاں آیا تھا بار بار اٹھتی تھیں آنکھیں مری خنجر کی طرف کتنی مشکل سے میں شب خود کو بچا پایا تھا پھر مرے ہاتھ میں اک روشنی در آئی تھی میں نے کچھ دیر کسی ہاتھ کو سہلایا تھا پھر مری بات سنی ان سنی کرنے لگے لوگ میں نے اک روز کسی بات کو دہرایا تھا کل مرے کمرے میں مہکار تھی فیصلؔ کیا کیا کل مرے کمرے میں پھولوں کا خدا آیا تھا

main giraan-baar thaa is vaaste kam-maaya thaa

غزل · Ghazal

اسے بھی رسم کا حصہ بتایا جاتا ہے ہمیں گھسیٹ کے بازار لایا جاتا ہے تو کیا بعید کہ ہم سر خرو بھی ہو جائیں ہمارا ظرف اگر آزمایا جاتا ہے گزشتہ عہد میں ہم شہر سے نکالے گئے نجانے اب کے ہمیں کیا سنایا جاتا ہے اب ایسے حال میں کیا قہقہوں کی فرمائش یہی بہت ہے اگر مسکرایا جاتا ہے تمہیں تو لوریاں شاید سنائی جاتی ہوں ہمیں تو تھپکیاں دے کر سلایا جاتا ہے اسی لیے تو مجھے روشنی پسند نہیں جہاں بھی جاؤں مرے ساتھ سایا جاتا ہے

ise bhi rasm kaa hissa bataayaa jaataa hai

غزل · Ghazal

جو تھامتے تھے مرا ہاتھ بوڑھے ہو گئے ہیں تبھی تو میرے خیالات بوڑھے ہو گئے ہیں اب اس سے بڑھ کے ہمیں اور آزمائے گا کیا کہ چلتے چلتے ترے ساتھ بوڑھے ہو گئے ہیں ہمارا بوجھ اٹھانے سے اب گریزاں ہیں تمہارے ارض و سماوات بوڑھے ہو گئے ہیں سفر مزید کریں گے تو گر پڑیں گے کہیں کہ آتے جاتے یہ دن رات بوڑھے ہو گئے ہیں جو میرے سر کی سفیدی پہ مسکراتے تھے بس ایک رات رہے ساتھ بوڑھے ہو گئے ہیں میں نسل نو کا اسے المیہ سمجھتا ہوں شجر جواں ہیں مگر پات بوڑھے ہو گئے ہیں تمہاری سمت سے اذن کلام ملتا نہیں مرے لبوں پہ سوالات بوڑھے ہو گئے ہیں

jo thaamte the miraa haath buDhe ho gae hain

غزل · Ghazal

مجھے اپنے ہی اندر چور سا محسوس ہوتا ہے تجھے دیکھوں تو کوئی دیکھتا محسوس ہوتا ہے تحیر کا یہ عالم ہے کہ جس کو دیکھ کر گزریں پلٹ کے دیکھیے تو دوسرا محسوس ہوتا ہے میں اندر سے بہت خالی ہوں لیکن تم بھی سچے ہو کہ میرا جسم باہر سے بھرا محسوس ہوتا ہے مرے اندر کسی شے نے بہت ہلچل مچائی ہے جہاں بھی بیٹھتا ہوں زلزلہ محسوس ہوتا ہے مگر اک عمر لگتی ہے یہاں تک آنے میں صاحب جہاں نقصان میں بھی فائدہ محسوس ہوتا ہے نہ جانے عشق کی اب کون سی منزل پہ فائز ہوں جہاں میں ہوں وہاں فیصلؔ خدا محسوس ہوتا ہے

mujhe apne hi andar chor saa mahsus hotaa hai

Similar Poets