
Faiyaz Gwaliari
Faiyaz Gwaliari
Faiyaz Gwaliari
Ghazalغزل
اس چمن میں کبھی ایسے بھی بہار آ جائے بے قراری کے مقدر میں قرار آ جائے نہ دلوں میں کوئی دھڑکن ہے نہ سینوں میں تڑپ موج طوفاں کوئی ساحل بہ کنار آ جائے شاخ پر پھول یہ کانٹوں سے ابھر کر بولا آج سردار وہی جو سر دار آ جائے مر کے جینے میں ہے سرسبزیٔ گلزار کا راز پھول کملائے تو کلیوں پہ نکھار آ جائے محو آئینہ ہوا کرتا ہے آئینۂ دل جس قدر صاف کرو اتنا غبار آ جائے بے قراری میں ہی فیاضؔ ہے جینے کا مزہ زندگی موت سمجھئے جو قرار آ جائے
is chaman mein kabhi aise bhi bahaar aa jaae
زخم پر زخم لے کے سینے میں لطف ہے مسکرا کے جینے میں جی کے پینے میں پی کے جینے میں فرق ہوتا ہے پینے پینے میں دیکھو دیکھو نہ آبگینوں میں تم نہا جاؤ گے پسینوں میں پاس ہوتے ہوئے بھی دور رہے کچھ قرینہ ہے یہ قرینوں میں تھوڑا تھوڑا گناہ ہو شاید تھوڑی تھوڑی شراب پینے میں عزم ساحل ہے استوار اگر آگ لگ جانے دو سفینے میں ہے کوئی دل کا قدرداں فیاضؔ اک خزانہ لئے ہوں سینے میں
zakhm par zakhm le ke siine mein
جھونکے کی طرح عمر دو روزہ گزر گئی جانے کدھر سے آئی تھی جانے کدھر گئی اس طرح دل تک آج کسی کی نظر گئی دم بھر ٹھٹک کے عمر گریزاں ٹھہر گئی افسانۂ حیات کی رنگینیاں نہ پوچھ اتنی ہے عمر بڑھ گئی جتنی گزر گئی سو انقلاب منتظر اک برہمی کے تھے بکھری جو ان کی زلف تو دنیا سنور گئی ہم تولتے رہے پر و بازوئے آرزو اتنے میں التفات کی ساعت گزر گئی رکھیں اب اہل ہوش قدم پھونک پھونک کر اپنی تو جس طریق پہ گزری گزر گئی بالیں پہ جلوہ ریز ہے حسن لطیف دوست فیاضؔ آنکھ کھول نماز سحر گئی
jhonke ki tarah umr-e-do-roza guzar gai
ٹٹولنے پہ بھی دل کا نشاں نہیں ملتا غضب خدا کا جہاں کا جہاں نہیں ملتا بھٹک رہے ہیں خلاؤں میں حضرت انساں نئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا کہاں ملے گا خدا یہ نہ پوچھئے مجھ سے کوئی بتائے مجھے وہ کہاں نہیں ملتا زمیں بھی گھوم رہی ہے زمین والے بھی کسی کو چین تہہ آسماں نہیں ملتا سکون ڈھونڈنے والے کمال کرتے ہیں وہیں تلاش کریں گے جہاں نہیں ملتا ترے سوال کے ملتے جواب اگر فیاضؔ جواب کچھ تو ادھر سے بھی ہاں نہیں ملتا
TaTolne pe bhi dil kaa nishaan nahin miltaa
کیا آنکھ ملاؤ گے تم دیکھنے والوں سے رہتے ہو اندھیروں میں ڈرتے ہو اجالوں سے بکھری ہوئی زلفیں ہیں یا میرؔ کی غزلیں ہیں قدر ان کی کوئی پوچھے آشفتہ خیالوں سے کس پیار سے ملتے ہیں ناقوس و اذاں دونوں کس جنم کا ناتا ہے مسجد کا شوالوں سے اسلام مسیحائی رب ارنی گیتا کیا کچھ نہیں پایا ہے دنیا نے گوالوں سے دو بوند ہی کام آئیں تپتے ہوئے صحرا کی کچھ آنکھ سے ٹپکا دو کچھ پاؤں کے چھالوں سے فیاضؔ وہ پوچھیں تو تکلیف تجھے کیا ہے ہم دیں گے جواب ان کو کچھ اور سوالوں سے
kyaa aankh milaaoge tum dekhne vaalon se
چپ ہو کیوں میں نے کچھ کہا تو نہیں ہو ہی جاتا غضب ہوا تو نہیں راہ میں لاکھ مشکلیں آئیں حوصلہ بڑھ گیا گھٹا تو نہیں یوں بھی مرجھا گئیں کئی کلیاں میں نے دیکھا مگر چھوا تو نہیں وہ تو میرے جنوں کی باتیں تھیں ہم نشیں تو نے کچھ سنا تو نہیں پہلے دنیا جہاں کے غم دے دو پھر کہو تجھ کو کچھ ہوا تو نہیں آپ سے دور آپ کا فیاضؔ کچھ برا ہو گیا ہے تھا تو نہیں
chup ho kyon main ne kuchh kahaa to nahin





